سنن النسائي - حدیث 4563

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ صحيح أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ يَدًا بِيَدٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4563

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: کھجوروں کی کھجوروں کے ساتھ بیع (کیسے ہونی چاہیے؟) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کھجور کا سودا کھجور کے ساتھ، گندم کا گندم کے ساتھ، جو کا جو کے ساتھ اور نمک کا نمک کے ساتھ سودا نقد (اور برابر) ہونا چاہیے۔ جو زیادہ دے یا زیادہ لے، اس نے سود کا لین دین کیا۔ الا یہ کہ جنسیں بدل جائیں۔‘‘ 1)امام نسائی رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ کھجور کا کھجور کے عوض سودا جائز ہے بشر طیکہ دونوں طرف سے نقد بہ نقد اور برابری ہو۔2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکورہ اشیاء کی ایک دوسرے کے عوض بیع جائز ہے بشر طیکہ وہ اشیاء برابر مقدار میں ہوں، سودا نقد ہو اور اسی مجلس میں دونوں فریق چیز کو اپنے اپنے قبضے میں لے لیں۔3) سود لینے سے، صرف لینے والا ہی گناہ گار نہیں ہوتا بلکہ دینے والا بھی مجرم ہوتا ہے، لہٰذا سود لینے والے اور دینے والے دونوں کو اس بچنا چاہیے۔ 4)حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جنس بدل جائے تو کمی بیشی جائز ہے۔ امام نو وی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنس کے مختلف ہونے کی صورت میں بھی تقابض (دونوں فریقوں کا چیز قبضے میں لینا) ضروری اور و اجب ہے۔ اس پر تقریباََ تمام اہل علم کا اتفاق ہے۔5) ’’جنسیں بدل جائیں‘‘ مثلاََ: کھجور کا سودا گندم کے ساتھ، گندم کا جو کے ساتھ، جو کا نمک کے ساتھ۔ ایسی صورت میں کمی بیشی جائز ہے، مثلاََ: دوکلو گندم دے کر نصف کلو کھجور لے تو کوئی حرج نہیں، البتہ سودا نقد ہونا چاہیے۔