سنن النسائي - حدیث 4561

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ مُتَفَاضِلًا صحيح أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ عَبْدِ الْغَافِرِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ قَالَ أَتَى بِلَالٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ اشْتَرَيْتُهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوِّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَقْرَبْهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4561

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: کھجور کی بیع کھجور کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ (جائز نہیں) حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے اپس برنی کھجوریں لے کر آئے۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ کیسے؟‘‘ وہ کہنے لگے: میں نے عام کھجوروں کے دو صاع دے کر یہ ایک صاع لی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اوہو! اوہو! یہ تو عین سود ہے۔ اس کے قریب مت جانا۔‘‘ 1)کھجور کو کھجور کے بدلے میں، کمی بیشی کے ساتھ بیچنا حرام ہے، نیز اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاکم وقت کو اپنی رعایا اور متعلقہ لوگوں کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے، اسے ان کے مفادات کا خیال رکھنا چاہیے اور ان کی طرف خاص توجہ دینی چاہیے۔2) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوا کہ امام اور ذمہ دار شخص جب کوئی ایسی بات سنے جو شرعاََ جائز ہو یا ایسی چیز اور معاملہ دیکھے جو شرعاََ حرام ہو تو اسے حرام کام کرنے والوں کو نہ صرف روکنا چاہیے بلکہ حق کی طرف ان کی رہنمائی بھی کرنی چاہیے۔3) یہ حدیث مبارکہ اس اہم مسئلے کی صریح دلیل ہے کہ خبر واحد شرعی حجت ہے۔ 4)’’عین سود‘‘ یعنی خالص سود کیونکہ دونوں طرف ایک ہی جنس ہو تو سودے میں کمی بیشی سود ہے۔