سنن النسائي - حدیث 4558

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ مُتَفَاضِلًا صحيح أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ رَيَّانَ وَكَانَ تَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْلًا فِيهِ يُبْسٌ فَقَالَ أَنَّى لَكُمْ هَذَا قَالُوا ابْتَعْنَاهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ هَذَا لَا يَصِحُّ وَلَكِنْ بِعْ تَمْرَكَ وَاشْتَرِ مِنْ هَذَا حَاجَتَكَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4558

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: ۔ کھجور کی بیع کھجور کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ (جائز نہیں) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس موٹی تازی کھجوریں لائی گئیں جبکہ رسول اللہ ﷺ کی کھجوریں خودر و قسم کی تھیں کہاں سے مل گئیں؟ لوگوں نے کہا: ہم نے اپنی کھجوروں کے دو صاع دے کر یہ ایک صاع کے حساب سے خریدی ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’ایسے نہ کرو۔ یہ درست نہیں بلکہ اپنی کھجوریں الگ رقم کے عوض فروخت کرو اور پھر اپنی ضرورت کے مطابق ان کو الگ رقم کے ساتھ خریدو۔‘‘ ’’موٹی تازی کھجوریں‘‘ مراد درختوں کی کھجوریں ہیں جن کو پانی وافر ملتا تھا۔ ظاہر ہے وہ ایسی ہی ہوں گی اور جن درختوں کو پانی نہیں ملتا، وہ زمین کے پانی ہی سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کی کھجوریں خشک ہی ہوں گی۔