سنن النسائي - حدیث 4551

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ صحيح أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنْ التَّمْرِ لَا يُعْلَمُ مَكِيلُهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنْ التَّمْرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4551

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب:۔ کھجوروں کے ایک ڈھیر کا سودا، جس کا ماپ معلوم نہیں، مقرر ماپ کی کھجوروں کے ساتھ کرنا حضرت جابر بن اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کھجوروں کے اس ڈھیر کا سواد، جس کا وزن معلوم نہ ہو، مقررہ وزن کی کھجوروں کے ساتھ کیا جائے۔ 1 ) امام نسائی رحمہ اللہ نے جو باب قائم کیا ہے اس مقصد یہ مسئلہ بیان کرنا ہے کہ کھجوروں وغیرہ کا ایسا ڈھیر جس کی مقدار، یعنی اس کا وزن یا ماپ معلوم نہ ہو تو اسے معلوم مقدار والے ڈھیر کے عوض نہیں بیچا جا سکتا کیونکہ اس طرح ایک فریق کی حق تلفی ہو گی اور شرعاََ یہ حرام ہے، نیز معلوم ہوا کہ ایک ہی جنس کی دو چیزوں کی خرید و فروخت کمی بیشی کے ساتھ نہیں ہو سکتی بلکہ اس میں تساوی ہاتھوں ہاتھ لینے دینے کی شرط ضروری ہے۔ 2)اس حدیث مبارکہ کے مفہوم سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ اگر دونوں ڈھیروں کی جنس مختلف ہو تو نا معلوم ماپ یا وزن والی ڈھیری کا سودا ، معلوم و معین ماپ یا وزن والی ڈھیری سے کر دیا جائے تو یہ درست بیع ہو گی۔ اشارۃ النص سے اس کی تائید ہو رہی ہے۔ 3)عرب لوگ اس دور کھجوروں کو تولنے کی بجائے ماپا کرتے تھے جبکہ آج کل لوگ وزن کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے عربی میں اصل لفظ ’’کیل‘‘ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ماپنے کے ہیں۔