سنن النسائي - حدیث 4535

كِتَابُ الْبُيُوعِ بَيْعُ الثَّمَرِ سِنِينَ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ قُتَيْبَةُ عَتِيكٌ بِالْكَافِ وَالصَّوَابُ عَتِيقٌ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4535

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: کئی سال کے لیے پھل بیچنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ نے کئی سال کے لیے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ کسی باغ یا مخصوص درختوں کے پھل کئی سال کے لیے پیشگی فروخت کرنا شرعاََ نا جائز اور حرام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں سراسر دھوکا ہے، نیز یہ ایک مجہول چیز کی بیع ہے۔ مزید بر آں یہ کہ بائع ایک ایسی چیز کا سودا کر رہا ہے جس کا کوئی وجود نہیں اور خریدار بھی ایک ایسی چیز خرید رہا ہے جو معدوم ہے، پھر اس کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہوتی کہ واقعی پیداوار ہو گی، لہٰذا فروخت کس چیز کی؟ لیکن اس حدیث سے بیع الصفات مستثنیٰ ہے۔ اس میں چیز کی جنس اور مدت کا تعین ہوتا ہے۔ وزن یا مقدار بھی معلوم ہوتی ہے۔ اور یکمشت رقم کی ادائیگی کر دی جاتی ہے۔ اسے بیع سلم یا سلف بھی کہتے ہیں۔ احادیث کی روشنی میں یہ جائز ہے۔ اس طریقے سے اختلاف اور دھوکے نوبت نہیں آتی۔