سنن النسائي - حدیث 453

كِتَابُ الصَّلَاةِ بَاب أَيْنَ فُرِضَتْ الصَّلَاةُ صحيح أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّ الْبُنَانِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الصَّلَوَاتِ فُرِضَتْ بِمَكَّةَ وَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَا بِهِ إِلَى زَمْزَمَ فَشَقَّا بَطْنَهُ وَأَخْرَجَا حَشْوَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فَغَسَلَاهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ كَبَسَا جَوْفَهُ حِكْمَةً وَعِلْمًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 453

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل نماز کہاں فرض ہوئی؟ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ک نمازیں مکہ (مکی دور) میں فرض ہوئیں۔ دو فرشتے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو زمزم کی طرف لے گئے، پھر آپ کا (سینہ اور) پیٹ چیرا اور اندرونی چیزیں سونے کے ایک تھال میں نکالیں، پھر ان کو زمز کے پانی سے دھویا، پھر آپ کے پیٹ میں حکمت اور علم ڈال کر اوپر سے بند کردیا۔ (۱) معراج کی طویل حدیث میں صرف دل کے دھونے کا ذکر ہے۔ اس روایت میں دل کے علاوہ بھی ذکر ہے۔ گویا مقصود تو دل کی صفائی تھی بالتبع رگیں وغیرہ بھی دھوئی گئیں۔ (۲)پہلی روایت میں سونے کے تھال میں حکمت اور علم لانے کا ذکر ہے، اس حدیث میں تھال میں دھونے کا ذکر ہے، ایک ی تھال میں دونوں چیزیں ممکن ہیں۔ اور ممکن ہے کہ دو تھال لائے گئے ہوں، ایک علم و حکمت سے بھرا ہوا، دوسرا دھونے کے لیے۔(۳)سونا استعمال کرنا ہمارے لیے منع ہے نہ کہ فرشتوں کے لیے، لہٰذا کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ (۴)معراج بالاتفاق مکی دور میں ہوئی (اگرچہ اس کی تاریخ میں اختلاف ہے) پانچ نمازیں معراج میں فرض ہوئیں، لہٰذا نماز کی فرضیت بالاتفاق مکی دور میں ہوئی۔