سنن النسائي - حدیث 4512

كِتَابُ الْبُيُوعِ الْبَيْعُ فِيمَنْ يَزِيدُ ضعيف أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَخْضَرُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاعَ قَدَحًا وَحِلْسًا فِيمَنْ يَزِيدُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4512

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: نیلامی والی بیع حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ن ایک پیالہ اور ایک ٹاٹ نیلامی کے ذریعے سے بیچا تھا۔ (۱) اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک انصاری آدمی آپ کے پاس کچھ مانگنے آیا۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے گھر میں کوئی چیز (موجود) ہے؟‘‘ اس نے کہا: ہاں، ایک کمبل ہے۔ ہم آدھا اوڑھ لیتے ہیں اور آدھا نیچے بچھاتے ہیں۔ اور ایک پیالہ ہے جس میں پانی پیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ’’دونوں چیزیں میرے پاس لے آئو۔‘‘ وہ شخص دونوں چیزیں لے آتا تو نبی ﷺ نے دو درہم میں بیچ کر رقم اس انصاری کو دے دی اور فرمایا: ایک درہم کا کھانے پینے کا سامان خرید کر گھر والوں کو دے دو اور دوسرے درہم کا کلہاڑا خرید کر میرے پاس لے آئو۔‘‘ اس شخص نے اسی طرح کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس (کلہاڑے) میں اپنے ہاتھ مبارک سے دستہ ٹھونک دیا اور فرمایا: ’’جائو، لکڑیاں کاٹو اور بیچوں۔ پندہ دن تک میں تمہیں نہ دیکھوں۔‘‘ وہ شخص چلا گیا، لکڑیاں کاٹتا اور فروخت کرتا رہا۔ اس کے بعد پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس کے پاس دس درہم (جمع ہو چکے) تھے۔ آپ نے فرمایا: ’’کچھ رقم سے کھانے پینے کی چیزیں خرید لو اور کچھ رقم کا کپڑا خرید لو۔‘‘ پھر آپ نے فرمایا: ’’یہ (محنت مزدوری کر کے کمانا) تیرے لیے اس سے بہت بہتر ہے کہ تو قیامت کے دن آئے اور (لوگوں سے) مانگنے کی وجہ سے تیرا چہرہ داغ دار ہو … الخ۔ (سنن ابی داود، الزکاۃ، حدیث: ۱۶۴۱، و سنن ابن ماجہ، التجارات، حدیث: ۲۱۹۸) (۲) ’’نیلامی کے ذریعے بیچا‘‘ اسی مذکورہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’انہیں کون خریدے گا؟‘‘ ایک شخص نے کہا: میں ایک درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ’’اس سے زیادہ کون دے گا؟‘‘ ایک دوسرے شخص نے کہا: میں دو درہم میں خریدتا ہوں۔ آپ نے اسے بیچ دیا۔ (سنن ابی داود، الزکاۃ، حدیث: ۱۶۴۱، و سنن ابن ماجہ: التجارات، حدیث: ۲۱۹۸) ایسی بیع کو نیلامی کی بیع کہا جاتا ہے جس میں بیچنے والا پہلی پیش کش پر راضی نہیں ہوتا، لہٰذا وہ نئے شخص سے نئے بھائو کا مطالبہ کرتا ہے، خواہ اسے دس مرتبہ ایسا کرنا پڑے۔ جس شخص کے بھائو کو وہ پسند کرے گا، اسے بیچ دے گا۔ اس بیع میں اصولی طور پر کوئی خرابی نہیں کیونکہ بیچنے والے نے پہلے خریدار کا بھائو رد کر دیا، لہٰذا نئے خریدار کے لیے نیا بھائو لگانا جائز ہے۔ بھائو پر بھائو اس وقت منع ہے جب خریدار اور بیچنے والا آپس میں بھائو کی بحت کر رہے ہوں اور رد و قبول کا فیصلہ نہ ہوا ہو، یا بھائو طے ہو گیا ہو اور دونوں نے قبول کر لیا ہو۔ نیلامی میں یہ خرابی نہیں، لہٰذا یہ بیع جائز ہے، البتہ اس سے مہنگائی پیدا ہونے کا امکان ہے کیونکہ بسا اوقات خریدار حضرات ضد میں بھائو بڑھانا شرع کر دیتے ہیں، اس لیے بلا ضرورت یہ طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اس فقیر کے مفاد کی خاطر یہ طریقہ اختیار فرمایا تھا۔ یہ بیع اس وقت ہی ہونی چاہیے جب چیز فروخت کرنا مقصود ہو۔ اگر مقصد چیز فروخت کرنا نہ ہو بلکہ نیلامی صرف قیمت بڑھانے کے لیے ہو تو پھر نیلامی کی بیع ناجائز ہے۔ ہاں، اگر نیلامی سے مہنگائی نہ بڑھتی ہو تو اس بیع میں کوئی حرج نہیں۔