سنن النسائي - حدیث 4504

كِتَابُ الْبُيُوعِ التَّلَقِّي صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4504

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: تجارتی قافلے کو منڈی سے باہر جا کر ملنا حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی تاجر منڈی اور بازار سے باہر ہی تجارتی قافلے کو ملے یا کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال بیچے۔ (راویٔ حدیث جنابِ طائوس نے کہا کہ) میں نے حضرت ابن عباسؓ سے پوچھا: شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے روکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے فرمایا: وہ اس کا دلال نہ بنے۔ ’’دلال نہ بنے‘‘ یعنی کمیشن لے کر اس کی چیز نے بیچے کیونکہ اس طرح مہنگالی ہو گی۔ کمیشن کی رقم بھی تو اس چیز کی قیمت میں شامل ہو گی۔ ہاں، اگر وہ ازراہ ہمدردی دیہاتی کا سامان بیچے تاکہ اسے اپنی سادگی کی بنا پر کوئی نقصان نہ ہو اور اس سے کمیشن وصول نہ کرے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس طرح مہنگائی کا خطرہ نہیں۔ کمیشن ہی مہنگائی کا سبب ہے دلال کو آج کل کمیشن ایجنٹ کہا جاتا ہے۔