سنن النسائي - حدیث 450

كِتَابُ الصَّلَاةِ فَرْضُ الصَّلَاةِ وَذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ فِي إِسْنَادِ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَاخْتِلَافُ أَلْفَاظِهِمْ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَابْنُ حَزْمٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ لِي مُوسَى فَرَاجِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 450

کتاب: نماز سے متعلق احکام و مسائل نماز کی فرضیت کا بیان اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس(کے متن)میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن حزم رحمہ اللہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں یہ (حکم) لے کر لوٹا حتیٰ کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزر رہا تھا تو انھوں نے کہا: آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس(۵۰) نمازیں فرض کی ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا: آپ اپنے رب کے پاس جائیں (اور تخفیف کا سوال کریں) کیونکہ آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ میں اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوا (اور تخفیف کا سوال کیا) تو اللہ تعالیٰ نے اس کا ایک حصہ معاف فرما دیا۔ میں پھر موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا اور انھیں بتایا تو انھوں نے کہا: پھر اللہ تعالیٰ سے رجوع کیجیے، آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی، چنانچہ میں پھر اپنے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو میرے رب تعالیٰ نے فرمایا: نمازیں پانچ ہیں مگر ثواب میں پچاس ہی ہوں گی۔ بات میرے ہاں تبدیل نہیں ہوتی۔ میں پھر موسیٰ علیہ السلام کی طرف لوٹا تو وہ کہنے لگے: پھر رب تعالیٰ سے رجوع کیجیے۔ میں نے کہا: تحقیق (اب تو) مجھے اپنے رب عزوجل سے (باربار تکرار پر) شرم آنے لگی ہے۔‘‘ (۱)’’نماز کا ایک حصہ معاف کردیا‘‘ عربی میں لفظ [شطر] ہے جس کے معنی نصف بھی ہیں اور ایک حصہ بھی، اس لیے دوسرے معنی اختیار کیے گئے ہیں۔ اس روایت میں بھی اختصار ہے ورنہ نمازیں پانچ پانچ کرکے کم ہوئیں۔ (۲) [لایبدل القول لدی] میں قول سے مراد کہی ہوئی بات ہے، یعنی پچاس نمازوں والا قول کہ تخفیف کے باوجود ان کا ثواب برقرار رہا۔ (۳)سند میں مذکور ابن حزم سے مراد ابوبکر بن محمد بن عمروبن حزم ہیں۔ ان کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔