سنن النسائي - حدیث 4489

كِتَابُ الْبُيُوعِ الْخَدِيعَةُ فِي الْبَيْعِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بِعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَاعَ يَقُولُ لَا خِلَابَةَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4489

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: سودے میں دھوکا لگتا ہو تو؟ حضرت ابن عمرؓ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا کہ (اکثر و بیشتر) اس کے ساتھ سودے میں دھوکا اور فریب کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب تو سودا کرنے لگے تو کہہ دیا کر: دھوکا نہیں چلے گا۔‘‘ پھر وہ آدمی جب بھی سودا کرتا تو کہہ دیا کرتا تھا کہ دھوکا نہیں چلے گا۔ سنن بیہقی (۵/۲۷۳) کی روایت میں ہے: ’’پھر تجھے تین دن تک سودے کی واپسی کا اختیار ہو گا۔‘‘ گویا جب سودے میں تنبیہ کر دی جائے کہ دھوکا نہیں چلے گا، یعنی دھوکا نہ کرنا، میں سادہ آدمی ہوں۔ اس کے باوجود فریق ثانی چالاکی دکھا جائے تو اس سادہ شخص کو تین دن تک واپسی کا اختیار رہے گا۔ بعض فقہاء نے یہ رعایت صرف اسی شخص سے خاص کی ہے جس سے یہ مسئلہ صادر ہوا تھا، حالانکہ اس تخصیص کی کوئی وجہ نہیں۔ کیا سادہ لوگوں کو اس دنیا میں رہنے کا حق نہیں؟ یا ان کو دھوکا دینا شرعاً جائز ہے؟ اسلام تو ایسی خود غرضی کی اجازت نہیں دیتا، لہٰذا چالاک لوگوں کی بجائے سادہ مومنوں کی حمایت کرنا چاہیے اور دھوکا دینے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا چاہیے اور وہ مندرجہ بالا صورت ہی میں ہے۔