سنن النسائي - حدیث 4463

كِتَابُ الْبُيُوعِ الْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا قَالَ الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ وَالْمَنَّانُ عَطَاءَهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4463

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل باب: جو شخص اپنے سامان کو جھوٹی قسم کھا کر بیچے؟ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام کرے گا، نہ انہیں دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے یہ (مذکورہ) جملے ارشاد فرمائے تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تو ناکام ہو گئے اور خسارے میں رہے۔ آپ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنا تہ بند (زمین پر یا اپنے ٹخنوں سے نیچے) لٹکاتا ہے، جو شخص اپنا سامان جھوٹی قسم کھا کر بیچتا ہے اور جو شخص اپنے عطیے کا حسان جتلاتا ہے۔‘‘ (۱) مؤلف رحمہ اللہ نے جو عنوان قائم کیا ہے اس کا مقصد جھوٹ بول کر سودا بیچنے کی قباحت و شناعت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرنا بھی ہے۔ (۲) اس حدیث مبارکہ سے اللہ تعالیٰ کی کئی ایک صفات معلوم ہوتی ہیں، مثلاً: کلام کرنا، دیکھنا اور تزکیہ کرنا وغیرہ۔ لین یہ بات ہمیشہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات، اس کی ذات ہی کے شایانِ شان ہیں۔ مخلوق میں پائی جانے والی صفات کے مشابہ ہرگز ہرگز نہیں جیسا کہ ایک گمراہ فرقے مُشَبِّہَہْ کا عقیدہ ہے، نیز اس سے دیگر گمراہ فرقوں مُعَطِّلَہْ اور مُمَثِّلَہْ وغیرہ کا بھی مکمل طور پر رد ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے منکر ہیں یا وہ اس کی صفات تو مانتے ہیں لیکن انہیں مخلوق کی صفات جیسا قرار دیتے ہیں۔ (۳) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ، قیامت کے دن اپنے مومن بندوں پر نظر کرم فرمائے گا۔ وہ انہیں محبت بھری نظر سے دیکھے گا، ان کا تزکیہ کرے گا اور نہیں عذاب سے بھی نجات عطا فرمائے گا۔ (۴) شلوار، تہ بن، پینٹ اور پائجامہ وغیرہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، مردوں کے لیے بالکل حرام ہے۔ اور یہ سنگین جرم ہے۔ بعض لوگ جب نماز کے لیے مسجدوں میں آتے ہیں تو اس وقت ٹخنے ننگے کر لیتے ہیں اور نماز کے بعد پھر اسی پہلی حالت میں آ جاتے ہیں۔ یہ دو رنگی ہے۔ (۵) جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنا، تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکانا نیز کسی کے ساتھ نیکی اور احسان کر کے جتلانا کبیرہ گناہ ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے ان گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے حدیث میں مذکور شدید وعید بیان فرمائی ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔ (۶) ’’نہ کلام کرے گا‘‘ یعنی محبت اور پیار سے باتیں نہیں کرے گا۔ رحمت و شفقت کی نظر سے نہیں دیکھے گا اور انہیں گناہوں کی معافی دے کر پاک نہیں کرے گا۔ مقصود ان باتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے ناراض اور غضب ناک رہے گا۔ غصے کی جھڑک اور ڈانٹ کو عرف عام میں کلام کرنا نہیں کہتے۔ اسی طرح غصے اور غضب کی نظر سے دیکھنے کو دیکھنا نہیں کہتے۔ (۷) ’’تہ بند لٹکاتا ہے‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے جو شخص تکبر سے اپنا ازار زمین پر گھسیٹتا پھرتا ہے۔ ایک حدی ثمیں ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے کو تکبر کہا گیا ہے۔ ہاں اگر باوجود اہتمام اور خیال رکھنے کے بھی کبھی کبھار کپڑا ٹخنوں سے نیچے چلا جاتا ہے تو مذکورہ بالا وعید، ان شاء اللہ، اس پر صادق نہیں آتی۔