سنن النسائي - حدیث 4442

كِتَابُ الضَّحَايَا تَأْوِيلُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ} [الأنعام: 121] صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ أَبِي وَكِيعٍ وَهُوَ هَارُونُ بْنُ عَنْتَرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرْ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَالَ خَاصَمَهُمْ الْمُشْرِكُونَ فَقَالُوا مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوهُ وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ أَكَلْتُمُوهُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4442

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ’’جس ذبیحے پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو، اسے مت کھائو‘‘ کی تفسیر حضرت ابن عباسؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {وَ لَا تَاْکُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ} ’’وہ جانور نہ کھائو جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔‘‘ کے بارے میں فرمایا: مشرکین نے مسلمانوں سے حجت بازی کی تھی کہ جس جانور کو اللہ تعالیٰ ذبح کرے، اسے تم نہیں کھاتے اور جسے تم خود ذبح کرتے ہو، اسے کھا لیتے ہو؟ معلوم ہوا آیت کریمہ میں وہ جانور مراد ہے جو خود بخود مر گیا ہو اور اسے ذبح کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔ اسی طرح جس جانور کو اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، وہ بھی حرام ہے۔ اسی طرح جس جانور کو مشرک نے ذبح کیا ہو، وہ بھی حرام ہے، خواہ اللہ یا غیر اللہ کا نام لے یا نہ کیونکہ اس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں، البتہ موحد شخص ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا بھول جائے تو متفقہ طور پر اس کا ذبیحہ حلال ہے کیونکہ نسیان عذر ہے۔ ہاں، اگر موحد جان بوجھ کر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لے تو اکثر اہل علم کے نزدیک ذبیحہ حرام ہے کیونکہ اس آیت میں وہ جانور کھانے سے منع کیا گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا گیا ہو مگر امام شافعی اور بعض دوسرے علماء نے ایسے ذبیحے کو حلال کہا ہے کیونکہ اللہ کا نام مومن کے دل میں قائم رہتا ہے۔ زبان سے ذکر کرے یا نہ کرے۔ سنن ابو داود کی ایک مرسل روایت بھی اس مفہوم میں آتی ہے۔ ان کے نزدیک مندرجہ بالا آیت: {مِمَّا لَمْ یُذْکَرِاسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ} سے مردار جانور ہے یا وہ جانور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ و اللہ اعلم۔ لیکن جمہور اہل علم کی بات راجح ہے۔