سنن النسائي - حدیث 4421

كِتَابُ الضَّحَايَا تَسْمِيَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الضَّحِيَّةِ صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَكَانَ يُسَمِّي وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4421

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل باب: قربانی ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ دو سیاہ و سفید، سینگوں والے مینڈھے ذبح کرتے تھے۔ آپ بسم اللہ و اللہ اکبر پڑھتے تھے۔ میں نے آپ کو اپنے دست مبارک سے انہیں ذبح کرتے دیکھا۔ آپ نے اپنا پائوں مبارک ان کے پہلو پر رکھا ہوا تھا۔ ویسے تو ہر ذبیحہ پر بسم اللہ و اللہ اکبر پڑھنا چاہیے مگر قربانی پر پڑھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اسے ذبح کرنے سے پہلے تو باقاعدہ نیت کی جاتی ہے۔ دلی طور پر بھی۔ ذبیحہ پر اگر اللہ کا نام لینا بھول جائے تو وہ ذبیحہ حلال ہو گا، البتہ جان بوجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔