سنن النسائي - حدیث 4408

كِتَابُ الضَّحَايَا النَّهْيُ عَنِ الذَّبْحِ بِالظُّفُرِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ فَكُلْ إِلَّا بِسِنٍّ أَوْ ظُفُرٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4408

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل باب:۔ ناخن کے ساتھ ذبح کرنے کی ممانعت کا بیان حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ جو چیز خون بہادے اور اللہ کا نام لیا گیا ہو تو(وہ ذبیحہ) کھا لے مگر دانت اور ناخن کا ذبح نہیں۔‘‘ دانت اور ناخن ذبح کرنے کے لیے نہیں بلکہ اور مقاصد کے لیے ہیں، اس لیے دانتوں اور ناخنوں سے ذبح کرنا و حشیانہ فعل ہے جیسا کہ آپ نے ایک ارشاد فرمایا کہ ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ یعنی یہ غیر مہذب قوموں کا شیوہ ہے۔ وہ لوگ چھوٹے موٹے جانوروں کی گردن منہ داخل کر کے دانتوں سے کاٹ دیتے تھے۔ اسی طرح بڑے بڑے ناخن رکھتے تھے۔ ذبح کرنے کے لیے ان کو استعمال کرتے تھے۔ ظاہر ہے شریعت اس ظالمانہ طریقے کو جائز قرار نہیں دے سکتی، البتہ دانت اور ناخن جسم سے الگ ہو چکے ہوں تو احناف کے نزدیک ان سے ذبح کیا جا سکتا ہے۔ بعض احادیث میں بھی یہ ذکر ہے کہ جو چیز بھی خون بہادے، اس سے ذبح کرنا جائز ہے، اس لیے بظاہر ان کی یہ بات معقول لگتی ہے مگر احادیث رسول کا تقاضا یہی ہے کہ ناخن اور دانت سے کسی بھی صورت ذبح نہ کیا جائے کیونکہ ایک دوسری روایت میں دانت سے ذبح نہ کرنے کی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ ہڈی ہے۔ ظاہر ہے دانت الگ بھی ہو تو وہ ہڈی ہی رہتا ہے۔ ناخن بھی ہڈی ہی ہے۔