سنن النسائي - حدیث 4396

كِتَابُ الضَّحَايَا بَابُ مَا تُجْزِئُ عَنْهُ الْبَدَنَةُ فِي الضَّحَايَا صحيح أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْغَنَائِمِ عَشْرًا مِنْ الشَّاءِ بِبَعِيرٍ قَالَ شُعْبَةُ وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي سَمِعْتُهُ مِنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ وَحَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ عَنْهُ وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4396

کتاب: قربانی سے متعلق احکام و مسائل قربانی میں اونٹ کتنے افراد کی طرف سے کفایت کر سکتا ہے؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ غنیمت تقسیم فرماتے وقت دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھا کرتے تھے۔ (راوی حدیث امام) شعبہ نے یہ حدیث کی سند سے بیان کی ہے، یعنی شعبہ یہ حدیث سفیان ثوری سے اور وہ اپنے باپ(سعید بن مسروق) سے بیان کرتے ہیں، تاہم امام شعبہ فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ میں یہ حدیث(سفیان ثوری کے واسطے کے بغیر) اس(سفیان) کے والد محترم سعید بن مسروق سے بھی سنی ہے۔ قربانی اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ کی ہو سکتی ہے۔ چونکہ ہر آدمی بڑے جانور کی استطاعت نہیں رکھتا، لہٰذا چھوٹے جانور، یعنی بھیڑ بکری کی قربانی کرنا بھی درست ہے جبکہ گائے اور اوٹ کی قربانی مستحب۔ جس طرح ایک قربانی واجب ہے، زائد مستحب۔ گائے، بکری سے بہت ہوتی ہے اور اونٹ گائے سے کافی بڑا، اس لیے گائے کو برابر سمجھتے ہیں جیسا کہ آئندہ حدیث میں آرہا ہے مگر اونٹ اور گائے کا فرق واضح ہے جسے بچہ بھی محسوس کر سکتا ہے۔ دونوں کو برابر سمجھنا عجیب بات ہے۔ باب والی حدیث اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دے رہی ہے۔ باقی رہی سات والی حدیث تو اس میں اس سات سے زائد کی نفی نہیں جبکہ آئندہ حدیث دس کے بارے میں صریح ہے،لہٰذا اس کو ترجیح ہونی چاہیے۔ بعض علماء نے یوں تطبیق دینے کی کوشش کی ہے کہ دس والی روایت عام قربانیوں کے بارے میں جبکہ سات والی روایت حرم میں ذبح ہونے والی قربانیوں کے بارے میں ہے۔ بعض اہل علم نے سفر میں اونٹ کو دس قربانیوں کے برابر قرار دیا ہے جبکہ حضر میں سات کے برابر لیکن یہ سارے کے سارے اپنے اپنے انداز اور تخمینے ہی ہیں۔