سنن النسائي - حدیث 4356

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ بَاب مَيْتَةِ الْبَحْرِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ فَقِيلَ لَهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنْ الرَّجُلِ قَالَ لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا فَأَتَيْنَا الْبَحْرَ فَإِذَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4356

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل سمندری مردہ جانوروں کا حکم حضرت جابر بن عبداللہؓ نے فرمایا: نبی اکرم ﷺ نے ہمیں (ساحل سمندر پر) بھیجا۔ ہم تین سو آدمی تھے۔ ہم نے اپنا زادِ راہ اپنی گردنوں پر اٹھایا ہوا تھا۔ وہ بھی ختم ہوگیا حتی کہ ہم میں سے ہر آدمی کو ایک دن میں ایک کھجور ملتی تھی۔ ان سے پوچھا گیا: اے ابوعبداللہ! ایک کھجور آدمی کا کیا گزارا کرتی ہوگی؟ انھوں نے فرمایا: جب کھجوریں بالکل ختم ہوگئیں تو ہمیں اس ایک کھجور کی بھی قدر معلوم ہوتی تھی۔ ہم ساحل سمندر پر پہنچے تو ہم نے ناگہاں وہاں ایک بڑی مچھلی دیکھی جسے سمندر نے باہر پھینک دیا تھا۔ ہم نے اس میں سے اٹھارہ دن کھایا۔ اس حدیث کی مزید تفصیل آئندہ حدیث میں آرہی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مچھلی حلال ہے، خواہ وہ شکار کی گئی ہو یا اسے سمندر کی لہروں نے باہر پھینک دیا ہو۔ یا وہ سمند پر بے جان تیر رہی ہو۔ کیونکہ سمندر عموماً بے جان مچھلی کو باہر ہی پھینک دیتا ہے۔ زندہ مچھلیاں تو پانی کے ساتھ واپس چلی جاتی ہیں، پھر اتنی بڑی مچھلی کہ جسے تین سو آدمی اٹھارہ دن تک کھاتے رہے ہوں اور وہ پھر بھی ختم نہ ہوئی ہو، زندہ حالت میں ساحل کے قریب نہیں آتی بلکہ گہرے سمندر میں رہتی ہے۔ لازماً اس کی لاش پانی پر تیرتی ہوئی کنارے پر آئی ہوگی۔