سنن النسائي - حدیث 435

كِتَابُ الْغُسْلِ وَالتَّيَمُّمِ بَاب الْوُضُوءِ مِنْ الْمَذْيِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ مُخَارِقًا أَخْبَرَهُمْ، عَنْ طَارِقٍ أَنْ رَجُلًا أَجْنَبَ فَلَمْ يُصَلِّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «أَصَبْتَ» فَأَجْنَبَ رَجُلٌ آخَرَ فَتَيَمَّمَ وَصَلَّى، فَأَتَاهُ فَقَالَ نَحْوَ مَا قَالَ لِلْآخَرِ يَعْنِي «أَصَبْتَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 435

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل مذی آنے سے وضو کرنا حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ ایک آدمی جنبی ہوگیا۔ (اسے پانی نہ ملا) تو اس نے نماز نہ پڑھی، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: ’’تونے ٹھیک کیا۔‘‘ ایک اور آدمی جنبی ہوا۔ (اسے پانی نہ ملا) تو اس نے تیمم کرکے نماز پڑھ لی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ آپ نے اسے بھی وہی الفاظ کہے جو دوسرے سے کہے تھے، یعنی ’’تونے ٹھیک کیا۔‘‘ وضاحت کے لیے دیکھیے، حدیث:۳۲۵اور اس کا فائدہ۔