سنن النسائي - حدیث 4344

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ تَحْرِيمُ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ أَصَبْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرًا خَارِجًا مِنْ الْقَرْيَةِ فَطَبَخْنَاهَا فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ حَرَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ فَأَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا فَأَكْفَأْنَاهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4344

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل گھریلو گدھوں کا گوشت کھانا حرام ہے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے خیبر کے دن بستی سے باہر کچھ گدھے پکڑ لیے اور ان کا سالن پکایا، پھر نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے گدھے کے گوشت کو حرام قرار دے دیا ہے، لہٰذا گدھے کے گوشت والی ہانڈیاں الٹ دو۔ ہم نے الٹا دیں۔ (۱) گھریلو گدھے حرام ہیں، نیز معلوم ہوا کہ جس جانور یا پرندے کا گوشت کھانا حرام ہے، اس جانور یا پرندے پر اللہ کا نام لے کر بھی ذبح کیا جائے تب بھی وہ حرام ہی رہتا ہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو گدھوں کا گوشت پکانا شروع کیا ہوا تھا، انھیں اللہ کے نام پر ہی ذبح کیا گیا تھا۔ (۲) اگر کوئی پلید چیز، کسی پاک چیز کے ساتھ لگ جائے تو اس کی نجاست صرف ایک بار دھونے سے زائل ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگر شریعت ایک سے زیادہ بار دھونے کا مطالبہ کرے تو، پھر شریعت مطہرہ کا تقاضا پورا کرنا ضروری ہوگا۔ (۳) اشیاء میں اصل اباحت (حلال اور جائز ہونا) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بلا تامل گدھے ذبح کر کے ان کا گوشت پکانا شروع کر دیا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ بھی ان میں موجود تھے لیکن انھوں نے اس سلسلے میں آپ سے کوئی بات کی نہ مشورہ ہی لیا کیونکہ ان کے ذہنوں میں یہی بات راسخ تھی کہ چیزیں دراصل حلال ہی ہوتی ہیں، البتہ حرمت کی دلیل ہوا کرتی ہے۔ (۵) امیر، مسئول اور ذمہ دار شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت اور مامورین کے حالات معلوم کرے، ان کے مسائل اور ان کی مشکلات حل کرے۔ مزید برآں یہ کہ اگر ان میں کوئی غیر رعی معاملہ دیکھے تو خود اس کی اصلاح کرے یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعے اس کی اصلاح کرائے تاکہ ایسا نہ ہو کہ غیر شرعی معاملہ پر خاموشی کو لوگ جائز سمجھنا شروع کر دیں اور اس طرح ایک ناجائز کام محض غفلت سے جائز قرار پائے۔ (۶) ’’ہم نے الٹا دیں‘‘ یعنی ہم نے وہ گوشت باہر پھینک دیا اور ضائع کر دیا۔ اس سے ان لوگوں کی تردید ہوتی ہے جن کا خیال ہے کہ گدھے بذات خود حرام نہیں مگر چونکہ لوگوں نے آپ کی اجازت اور تقسیم کے بغیر گدھے ذبح کر لیے تھے جبکہ ان میں سے خمس بھی نہیں دیا گیا تھا، اس لیے آپ نے بطور سزا ہانڈیاں الٹانے کا حکم دیا تھا، حالانکہ اگر یہ بات ہوتی تو گوشت ضائع نہ کیا جاتا بلکہ اسے بحق سرکار ضبط کر لیا جاتا۔ حلال چیز کو ضائع کرنا حرام ہے۔