سنن النسائي - حدیث 4322

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ الضَّبُّ صحيح أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ فَقُدِّمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُ شَيْئًا حَتَّى يَعْلَمَ مَا هُوَ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ أَلَا تُخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْكُلُ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَتَرَكَهُ قَالَ خَالِدٌ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ لَا وَلَكِنَّهُ طَعَامٌ لَيْسَ فِي أَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ إِلَيَّ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَكَانَ فِي حِجْرِهَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4322

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل سانڈے کا بیان حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے (آپ کی زوجہ محترمہ) حضرت میمونہ بنت حارث ؓ کے ہاں گیا۔ وہ میری خالہ تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سانڈے کا گوشت پیش کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سانڈے کا گوشت پیش کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت تک کوئی چیز نہیں کھاتے تھے، جب تک پتا نہ چل جاتا کہ یہ کیا ہے؟ اس لیے ایک عورت نے کہا: تم رسول اللہ ﷺ کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ آپ کیا کھانے لگے ہیں؟ پھر اس نے آپ کو بتا دیا کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے۔ آپ نے اسے چھوڑ دیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ لیکن یہ میری قوم کے علاقے (میرے وطن) میں نہیں پایا جاتا، اس لیے مجھے اس سے کچھ کراہت سی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے برتن اپنی طرف کھینچ لیا اور اسے کھا لیا جبکہ رسول اللہ ﷺ مجھے (کھاتے ہوئے) دیکھ رہے تھے۔ اور (یزید) ابن الاصم نے (یہ روایت اپنی خالہ ام المومنین) حضرت میمونہ ؓ سے اس (ابن شہاب امام زہری رحمہ اللہ ) کو بیان کی۔ اور وہ (ابن اصم) حضرت میمونہ کی پرورش میں تھے۔ (۱) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی شخص کی بیوی کے رشتہ دار اس کے خاوند کی اجازت اور رضا مندی سے اس کے گھر آجا سکتے ہیں جیسا کہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی رضا مندی اور اجازت سے اپنی خالہ ام المومنین کے گھر تشریف لے گئے تھے۔ (۲)اس حدیث مبارکہ سے یہ اہم مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کوئی کام ہوتا دیکھ کر خاموش رہیں تو وہ کام شرعاً جائز اور حجت ہوتا ہے اور یہ صرف نبی ﷺ کا مقام ومرتبہ ہے۔ اسے محدثین کرام کی اصطلاح میں حدیث تقریری کہا جاتا ہے۔