سنن النسائي - حدیث 4307

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ فِي الَّذِي يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ، فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ، قَالَ: «إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4307

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل جو شخص جانور کو تیر مارے ، پھر وہ اس سے غائب ہو جائے تو ؟ حضرت عد بن حاتم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ میں عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں، پھر اس کا کھوج لگاتے ہوئے ایک رات کے بعد اسے پاتا ہوں(تو کیا کروں؟) آپ نے فرمایا:’’جب تو اس میں اپنا تیر پہچان لے۔ تو اسے کھا سکتا ہے بشر طیکہ کسی درندے نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو۔‘‘