سنن النسائي - حدیث 4296

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ بَابُ الرُّخْصَةِ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ لِلْحَرْثِ صحيح أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ كَلْبَ صَيْدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ» قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4296

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل کھیتی کی حفاظت کے لیے کتا رکھنے کی رخصت حضرت عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’جس شخص نے جانوروں کی حفاظت یا شکار کرنے والے کتے کے علاوہ کتا رکھا، اس کے نیک اعمال سے ہر روز ایک قیراط کی کمی کی جائے گی۔‘‘ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ الفاظ بھی بیان فرمائے کہ کھیتی کی حفاظت والا کتا بھی رکھ کتا بھی رکھ سکتا ہے۔ 1۔شکار کے کتے سے مرادووہ کتا ہے جو عملاََ شکار کے لیے استعمال ہو، یعنی اس کے ساتھ شکار کیا جائے نہ کہ صرف شکاری نسل سے ہو جیسا کہ آج کل سمجھا جاتا ہے۔ شرعاََ ہر وہ کتا شکاری ہو سکتا ہے جسے شکار کی بیت و تعلیم دی جائے۔ یہ بات بہر صورت یاد رہنی چاہیے کہ جس شکار کی تربیت دے کر کتے کو سدھانا ہے، وہ شوفیہ خنزیر وغیرہ کا شکار نہیں بلکہ حلال جانوروں کا شکار ہے۔ 2۔دوڑ کے لیے کتا رکھنا بھی گناہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتے کو دوڑنے کے لیے پیدا نہیں کیا۔ کتے کے درڑنے سے بنی نوع انسان کو کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ 3۔کھیتی کی حفاظت کرنے والا کتا کھیت میں ہی رہنا چاہیے۔ اسی طرح جانوروں کی حفاظت کرنے والا کتا بھی جانوروں ہی میں رہے۔ گھر میں ان کوئی کام نہیں۔ شکار والا کتا بھی ممکن حد تک گھر سے باہر ہی رکھا جائے تو بہتر ہے۔