سنن النسائي - حدیث 4289

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ الرُّخْصَةُ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ لِلْمَاشِيَةِ صحيح أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ إِلَّا ضَارِيًا أَوْ صَاحِبَ مَاشِيَةٍ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4289

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل جانوروں ( کی حفاظت) کے لیے کتا رکھنے کی رخصت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے وایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’جو شخص کتا رکھے، اس کے ثواب سے ہر روز دو قیراط کم کیے جائیں گے، الا یہ کہ وہ شکاری ہو یا جانوروں کی حفاظت کے لیے رکھا گیا ہو۔‘‘ یہ تفصیلی بحث:۴۲۸۵ میں گزر چکی ہے، البتہ وہاں ای قیراط کا ذکر تھا یہاں دو قیراط کا ذکر ہے ممکن ہے کتے، کتے فرق ہو، یعنی جو زیادہ نقصان دہ ہو، وہاں دو قیراط کی کمی ہوتی ہے اور کم نقصان دہ پر ایک قیراط کی۔ یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا سبب جگہ کا فرق ہو، یعنی شہری آبادی میں دو قیراط اور باد یہ اور کھلی جگہ ایک قیراط وغیرہ۔ بعض لوگوں نے اس فرق کا سبب مدینہ اور غیر مدینہ میں کتا رکھنے کو قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم