سنن النسائي - حدیث 4281

كِتَابُ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ الْأَمْرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ صحيح بلفظ : " يقتل كلب الحائط الصغير ، و يترك كلب الحائط الكبير " أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: لَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الصَّغِيرِ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4281

کتاب: شکار اور ذبیحہ سے متعلق احکام و مسائل کتے قتل کرنے کا حکم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کو حضرت جبریل ﷺ نے بتایا: … لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ اس دن آپ نے صبح کے وقت کتے مارنے کا حکم دیا حتی کہ آپ چھوٹے چھوٹے کتے مارنے کا بھی حکم دیتے تھے۔ (۱) ضرورت پڑنے پر کتوں کو قتل کرنا جائز ہے۔ (۲) ’’داخل نہیں ہوتے‘‘ یعنی رحمت کے فرشتے ورنہ کاتب، محافظ اور موت کے فرشتے تو ہر گھر میں جاتے ہیں۔ (۳) ’’تصویر‘‘ مراد ذی روح کی تصویر ہے، خواہ وہ آدمی کی ہو یا حیوان کی، مجسم ہو یا منقش و نگار کی صورت میں ہو یا کپڑے پر بنائی گئی ہو یا وہ شمسی تصویر ہو، یہ سب اقسام حرام ہیں۔ صحیح احادیث کی روشنی میں فرشتے ان گھروں میں داخل نہیں ہوتے جن میں تصویریں ہوں۔ ہاں! صرف ان تصویروں کی رخصت ہے جو ناگزیر مقاصد کے لیے ہوں اور ان کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، جیسے پاسپورٹ، شناختی کارڈ یا لائسنس وغیرہ کے لیے انہیں بھی محفوظ یا بند مقام میں رکھا جائے، آویزاں نہ کیا جائے۔ اسی طرح کسی کپڑے پر بنی تصاویر کو پھاڑ کر بستر یا تکیے بنا لیے جائیں اور استعمال میں لایا جائے تو جائز ہے۔ بالفاظ دیگر اگر اس قسم کی صورت میں ان کی پامالی ہوتی ہے تو جائز ہیں۔ (۴) ’’کتے مارنے کا حکم‘‘ رسول اللہﷺ نے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے آغاز میں کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ یہ حکم عام تھا جو ہر قسم کے کتے کے قتل کو شامل تھا، اس لیے کسی قسم کے کتے کو پالنا جائز نہ تھا، پھر آپ نے کالے کتے کے علاوہ باقی کتوں کے قتل سے منع فرما دیا اور شکاری، کھیتی باڑی اور جانوروں کی حفاظت کے لیے کتے پالنے کی اجازت دے دی۔ ان اقسام کے علاوہ تمام کتوں کو ضرورت کے تحت خصوصاً اس وقت قتل کرنا جائز ہے جب وہ ضرر رساں بھی ہوں۔ و اللہ اعلم۔