سنن النسائي - حدیث 4267

كِتَابُ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ الذُّبَابُ يَقَعُ فِي الْإِنَاءِ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْقُلْهُ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4267

کتاب: فرع اور عتیرہ سے متعلق احکام و مسائل باب : مکھی برتن میں گر جائے ( تو کیا کیا جائے ؟) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ اکرمﷺ نے فرمایا: ’’جب کسی کے (کھانے پینے کے) برتن میں مکھی گر جائے تو اسے ڈبو کر نکال دیا جائے۔‘‘ (۱) کھانے پینے والی کسی چیز یا برتن میں مکھی گر جائے تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ چیز اور برتن پلید نہیں ہوتا کیونکہ رسول اللہﷺ نے مکھی کی بابت حکم فرمایا ہے کہ اس کو ڈبو دیا جائے اور پھر ڈبو کو نکال پھینکا جائے۔ (۲) اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ مکھی زندہ ہو یا مردہ، وہ پاک ہوتی ہے۔ (۳) ’’ڈبو کر‘‘ ڈبونے سے اس کے مرنے کا اکان ہے۔ معلوم ہوا مکھی وغیرہ (جن میں خون کثیر مقدار میں نہیں ہوتا) کے مرنے سے مشروب پلید نہیں ہو گا۔ (۴) رسول صادق و مصدوقﷺ سے دیگر روایات میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ مکھی کے ایک پر میں بیماری اور دوسریح میں شفا ہے۔ اور مکھی کسی چیز میں گرتے وقت وہ پر پہلے لگاتی ہے جس میں بیماری ہے، لہٰذا تم دوسرا پر بھی ڈبو دو تاکہ بیماری کا علاج ساتھ ہو جائے۔ (صحیح الخباری، بدء الخلق، حدیث: ۳۳۲۰، و سنن ابی داود، الأطعمۃ، حدیث: ۳۸۴۴) (۵) بعض حضرات نے اس حدیث پر کیا ہے کہ مکھی تو گندی چیزوں پر بیٹھتی ہے۔ پھر کھانے پینے والی چیزوں کو خراب کرتی ہے، لہٰذا مکھی کو ڈبونے سے تو مزید خرابی پیدا ہو گی۔ ان معترض حضرات کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود مکھی سے نہیں بچ سکتے اور نہ اس کی خرابی سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے کمال مہربانی فرماتے ہوئے اس کا علاج تجویز فرمایا ہے تو کیا برا کیا ہے؟ باقی رہی یہ چیز کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں۔ شہد کی مکھی میں شہد بھی ہے اور زہر بھی۔ جانوروں میں دودھ بھی ہے اور گوبر بھی، نیز یہ عملی تجربہ ہے کہ بھڑ وغیرہ کاٹ لے تو اس کو وہیں جسم پر مسل دینے سے زہر ختم ہو جاتا ہے۔ کیوں نہ ایک سچے نبی کی بات کو صدق دل سے مان لیا جائے؟ فداہ نفسی و روحی۔ﷺ