سنن النسائي - حدیث 4261

كِتَابُ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ النَّهْيُ عَنِ الِانْتِفَاعِ بِشُحُومِ الْمَيْتَةِ صحيح أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ. فَقَالَ: «لَا، هُوَ حَرَامٌ». فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَّلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4261

کتاب: فرع اور عتیرہ سے متعلق احکام و مسائل مردار کی چربی سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت حضرت جابربن عبداﷲ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اﷲﷺ کو فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں فرماتے سنا: ’’بلاشبہ اﷲ عزو جل اور اس کے رسول (ﷺ) نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔‘‘ عرض کی گئی: اے اﷲ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ یہ کشتیوں کو ملی جاتی ہے اور چمڑوں کو لگائی جاتی ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’نہیں، یہ حرام ہے۔ ‘‘ اس وقت رسول اﷲﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اﷲ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت فرمائے کہ جب اﷲ تعالیٰ نے ان پر چربی کو پگھلا کر بیچ دیا اور اس کی قیمت کھانے لگے۔ ‘‘ 1۔مردار جانور کی چربی انواعِ استعمال میں سے کسی بھی نوع میں استعمال نہیں ہوسکتی۔ 2)یہ حدیث مبارکہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ ہر وہ حیلہ جو کسی حرام چیز کو حلال کرنے کی خاطر اختیار کیا جائے، باطل ہے۔ ایسا حیلہ بھی باطل ہے جو حرام چیز کی حلت تک لے جائے اور اسی طرح اس کے برعکس بھی۔3) اس حدیث مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی چیز کی ہیئت اور اس نام کی تبدیلی سے اس چیز کا حکم نہیں بدلتا، مثلاََ یہودیوں نے جامد چربی کو پگھلا کر اسے مائع میں تبدیل کرکے استعمال کیا، اس کے باوجود ان لپر لعنت کی گئی۔ یہی حکم دیگر اشیا ؤء کاہے۔ نیز اس مسئلے کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ جو کوئی حرام چیزوں کو حلال کرنے کی خاطر کسی قسم کا حیلہ تراشتا ہے، وہ ملعون ہے کیونکہ وہ بھی اس سلسلے میں یقینا ان یہودیوں کی راہ پر چلا ہے جنھوں نے اﷲ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کرنے کے لیے حیلے بہانے گھڑ لیے تھے۔ مذکورہ تفصیل سے مقصود یہ ہے کہ جو چیز فی نفسہ حرام ہے، اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا حرام ہے نیز اس کا کار4)وبار بھی حرام ہے۔ اس کو کسی حیلے سے حلال نہیں کیا جاسکتا، مثلاََ: شراب کو سر کہ بنا کر بیچا نہیں جاسکتا ہ۔ حرام چیز کی قیمت بھی حرام ہے۔