سنن النسائي - حدیث 4227

كِتَابُ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ بَابُ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4227

کتاب: فرع اور عتیرہ سے متعلق احکام و مسائل ( اس کا بیان کہ ) فرع اور عتیرہ درست نہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’فرع اور عتیرہ درست نہیں۔ ‘‘ یہ دو قسم کی قربانیاں تھیں جو جاہلیت میں رائج تھیں۔ اونٹنی سے پیدا ہونے والا پہلا بچہ بتوں کے نام بطور تشکر ذبح کردیا جاتاتھا۔ اسے فرع کہتے تھے۔ یا جس کے پاس سو اونٹ پورے ہوجاتے تو وہ ہر سال ایک جوان اونٹ بتوں کے نام پر ذبح کردیتا تھا۔ اسے بھی فرع کہتے تھے۔ ماہ رجب کے شروع میں مشرکین ایک بکری ذبح کرتے تھے، اسے عتیرہ کہا جاتا تھا۔ اسلام نے جہاں جاہلیت کی دوسری رسمیں ختم کردیں، ان کو بھی ختم کردیا، البتہ اگر کوئی شخص اﷲ تعالیٰ کے نام پر جانور کا پہلا بچہ یا سواں جانور بطور تشکر ذبح کرکے مساکین کو صدقہ کردے تو اسے صدقہ کا ثواب مل جائے گا جبکہ قربانی کی بجائے مسلمانوں کے لیے ذوالحجہ میں اقربانی مشروع کی گئی ہے، لہٰذا وہی کرنی چاہیے۔ ہاں، کوئی ویسے ہی صدقہ کرنا چاہے تو جب مرضی ہو، گوشت بناکر صدقہ کردے۔ کوئی پابندی نہیں۔ حدیث میں فرع اور عتیرہ کی نفی بتوں کے نام پر قربانی دینے میں وگرنہ اﷲ کے نام پر کسی بھی وقت قربانی دینا مستحب عمل ہے۔