سنن النسائي - حدیث 4219

كِتَابُ الْعَقِيقَةِ الْعَقِيقَةُ عَنِ الْغُلَامِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَحَبِيبٌ، وَيُونُسُ، وَقَتَادَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4219

کتاب: عقیقہ سے متعلق احکام و مسائل لڑکے کا عقیقہ حضرت سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بچے کی طرف سے عقیقہ ہونا چاہیے، لہٰذا جانور ذبح کرو اور بچے سے میل کچیل دور کرو۔‘‘ (۱) ’’ذبح کرو‘‘ حکم ہے، نیز عقیقہ آپ کا فعل ہے، لہٰذا کم از کم سنت تو ہے اگرچہ بعض اہل علم نے امر کی وجہ سے واجب کہا ہے۔ (۲) ’’میل کچیل دور کرو‘‘ مراد سر کے بال ہیں۔ گویا عقیقہ کے ساتھ بچے کا سر بھی مونڈا جائے گا بلکہ ایک روایت کے مطابق اس کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی جائے۔ بعض نے اس سے ختنہ مراد لیا ہے۔ یا اس سے مراد یہ ہے کہ جانور ذبح کرنے کے بعد اس کا خون بچے کے سر پر نہ ملا جائے جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا۔