سنن النسائي - حدیث 4207

كِتَابُ الْبَيْعَةِ بِطَانَةُ الْإِمَامِ صحيح أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ، وَلَا اسْتَخْلَفَ مِنْ خَلِيفَةٍ، إِلَّا كَانَتْ لَهُ بِطَانَتَانِ: بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ، وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِّ وَتَحُضُّهُ عَلَيْهِ، وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4207

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل امام کے مشیر اور راز دان ( اچھے ہونے چاہییں) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا اور جسے بھی خلیفہ مقرر فرمایا، اس کے دو قسم کے مشیر ہوتے ہیں۔ ایک مشیر اسے نیکی کا حکم دیتے تھے اور دوسرے مشیر اسے برائی کا مشورہ دیتے تھے اور برائی کی ترغیب دلاتے تھے۔ اور محفوظ وہی رہتا ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔‘‘ یہ بات صرف نبی و خلیفہ ہی سے خاص نہیں، ہر شخص کو اسی صورت حال سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس کو اچھے ساتھی بھی ملتے ہیں اور برے بھی۔ خوش قسمت ہے وہ شخص جس پر غلبہ اچھے ساتھیوں او مشیروں کا ہوتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ اور بدنصیب ہے وہ شخص جو برے ساتھیوں اور مشیروں کے زیر اثر رہا۔