سنن النسائي - حدیث 4198

كِتَابُ الْبَيْعَةِ التَّرْغِيبُ فِي طَاعَةِ الْإِمَامِ صحيح أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4198

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل اطاعت امام کی ترغیب دینا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے میری اطاعت کی، درحقیقت اس نے اﷲ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ اور جس شخص نے میری نافرمانی کی، اس نے درحقیقت اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ (اسی طرح) جس شخص نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی، اس نے درحقیقت میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی اطاعت امیر سے متعلق احکام ومسائل کی، اس نے در حقیقت میری نافرمانی کی۔ ‘‘ 1۔باب کے ساتھ حدیث کی مطابقت واضح ہے۔ رسول اﷲﷺ نے امیر کی اطاعت کی ترغیب اس طرح دی ہے کہ اس کی اطاعت کو اپنی اور ا ﷲ عزو جل کی اطاعت ہی قرار دیا ہے۔ آپﷺ نے اپنی طرف سے کئی صحابہ کو امیر مقرر فرمایا جیسا کہ اہل یمن کی طرف حضرت معاذبن جبل، حضرت علی اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم کو مقرر فرمایا۔2 رسول اﷲﷺ نے جس اطاعت کی ترغیب دلائی ہے وہ مشروط و مقید اس اطاعت ہے، یعنی صرف معروف میں اطاعت، اﷲ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں رسول اﷲﷺ کا یعنی خالق کی نافرمانی کی صورت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔