سنن النسائي - حدیث 4197

كِتَابُ الْبَيْعَةِ الْحَضُّ عَلَى طَاعَةِ الْإِمَامِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَدَّتِي تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: «وَلَوِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4197

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل امام ( امیر) کی اطاعت کا شوق دلانا اور اس پر ابھارنا حضرت یحییٰ بن حصین سے روایت ہے کہ میں نے اپنی دادی سے سنا، وہ فرماتی تھیں: میں نے رسول اﷲﷺ کو حجۃ الوداع میں فرماتے سنا:ن ’’ اگر تم پر ایک حبشی غلام امیر بنادیا جائے جو تمھیں اﷲ تعالیٰ کی کتاب (شریعت اسلامیہ) کے مطابق چلائے تو تم اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ ‘‘ 1۔چونکہ عام طورپر معاشرے میں غلام کو کم تر خیال کیا جاتا ہے، اس لیے رسول اﷲ ﷺ نے نظر نہیں ہوتا، کو ماتحت امیر وامام مقرر کردے تو اس کی اطاعت و فرماں برداری بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح کہ ایک آزاد مردکی۔اس اطاعت میں حریت وعبدیت کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔2۔ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام وامیر بننے کے لیے حریت اور آزادی شرط نہیں ہے کہ صرف آزاد زشخص ہی امام اور امیر بن سکے۔ آقاو مولا کی اجازت سے غلام بھی امام وامیر بن سکتا ہے۔ اس صورت میں غلام، صرف غلام ہی نہیں بلکہ امام برحق بھی ہوگا، لہٰذا اس کی اطاعت بھی واجب ہوگی۔3 یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ کوئی بھی امام و امیر یا خلیفۃ المسلمین صرف اس صورت میں واجب الطاعۃ ہے جب وہ کتاب وسنت کے مطابق احکام دے، لوگوں کو شریعت اسلامیہ کے مطابق چلائے اور خود بھی پابند شریعت بن کررہے، ہاں! اگر کوئی امیر کتاب وسنت کے مخالف محض اپنی خواہش نفس کی اطاعت کرانا چاہے تو اس صورت میں وہ قطعاََ اطاعت کا حق دار نہیں کیونکہ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:4 نیز اس حدیث مبارکہ سے تقلید شخصی کا مکمل طور پر رد ہوتا ہے۔ غیر مشروط اطاعت صرف اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کا حق ہے جو کسی دوسرے کو نہیں دیا جاسکتا ۔