سنن النسائي - حدیث 4196

كِتَابُ الْبَيْعَةِ ذِكْرُ مَا عَلَى مَنْ بَايَعَ الْإِمَامَ وَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ صحيح أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، وَالنَّاسُ عَلَيْهِ مُجْتَمِعُونَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ، وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ، وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشْرَتِهِ، إِذْ نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ»، فَاجْتَمَعْنَا، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا، فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ، وَيُنْذِرَهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا، وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ، وَأُمُورٌ يُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ فَيُدَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ، فَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ، ثُمَّ تَجِيءُ فَيَقُولُ: هَذِهِ مُهْلِكَتِي، ثُمَّ تَنْكَشِفُ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ، وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ، فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ مَا يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ، وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا، فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ، فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا رَقَبَةَ الْآخَرِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ: سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ متصل

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4196

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل جو شخص امام کی بیعت کرے ، اس کے ہاتھ میں ہاتھ دے اور اسے خلوص کا یقین دلائے تو ( اس پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے )؟ حضرت عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا۔ وہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے۔ میں نے انھیں فرماتے سنا کہ ایک دفعہ ہم رسول اﷲﷺ کے ساتھ سفر میں تھے۔ ہم ایک منزل میں اترے۔ ہم میں سے کوئی شخص ابھی خیمہ لگا رہا تھا، کوئی (بطور مشق) تیر اندازی کررہا تھا اور کوئی اپنے جانوروں کو چرانے کے لیے نکال رہا تھا کہ اتنے میں نبیﷺ کے منادی نے اعلان کیا: تماز کے لیے اکٹھے ہوجاؤ، چنانچہ ہم سب اکٹھے ہوگئے۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ نے (خطبہ کے دور ان میں) فرمایا: ’’ جو بھی بنی مجھ سے پہلے گزرے ہیں‘ان پر ضروری تھا کہ اپنی امت کی ان باتوں کی طرف رہنمائی فرمائیں جنھیں وہ ان کے لیے بہتر سمجھتے تھے۔ اور انھیں ان چیزوں سے ڈرائیں جنھیں وہ ان کے لیے برا سمجھتے تھے۔ اور تمھاری اس امت کی خیرو بھلائی اس کے ابتدائی لوگوں میں رکھ دی گئی ہے۔ بعد میں آنے والوں پر بڑی آزمائشیں آئیں گی اور ایسے حالات طاری ہوں گے جنھیں وہ ناپسند کریں گے۔ بے شمار فتنے آئیں گے جو ایک دوسرے کے مقابلے می ہلکے معلوم ہوں گے۔ (ایک سے بڑھ کرایک ہو گا۔ ) ایک فتنہ آئے گا، مومن سمجھے گا کہ یہ مجھے ہلاک کرڈالے گا، پھر وہ فتنہ ٹل جائے گا اور اس کی جگہ اور بڑا فتنہ آئے گا۔ مومن کہے گا: یہ ہلاک کن ہے (اس سے تو میں بچ ہی نہیں سکتا) پھر وہ بھی ٹل جائے گا، چنانچہ تم میں سے جو شخص چاہتا ہے کہ اسے آگ سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا دجائے تو اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ اﷲ تعالیٰ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ خود پسند کرتا ہے کہ میرے ساتھ کیا جائے۔ جو شخص کسی امام (امیر) کی بیعت کرے، اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے اور اس سے دلی طور پر (خلوص) عہد کرے تو جہاں تک ہو سکے، وہ اس کی اطاعت کرے، پھر اگر کوئی دوسرا شخص (مسلمہ) امیر سے حکومت چھیننے کی کوشش کرے تو اس کی گردن مار دو۔ ‘‘ (راوی نے کہا: ) میں نے حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہا سے قریب ہوکر پوچھا: آپ نے رسول اﷲﷺ کو یہ سب باتیں فرماتے سنا ہے؟ انھوں نے فرمایا: ہاں ! (یقینا) 1۔باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت یوں بنتی ہے کہ جو شخص کسی امیر اور امام برحق کی بیعت کرلیتا ہے اور اسے اپنا تمام تر خلوص و محبت پیش کر دیتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ شخص حسب استطاعت وفا کے تقاضے پورے کرے اور اس پر جو اطاعت امیر لازم ہے اسے پورا کرے۔ اگر کوئی دوسرا شخص آکر پہلے امیر کی خلافت چھیننا چاہے تو وہ پہلے امیر کے ساتھ مل کر دوسرے سے لڑائی کرے۔ اس حدیث مبارکہ سے انبیاء کے ذمے ان فرائض کی وضاحر بھی وہتی ہے جو اﷲ تعالیٰ نے ان پر عائد کیے تھے یعنی اخلاص کے ساتھ انھیں اطاعت امیر سے متعلق احکام ومسائل خیر وشر کے متعلق خبردار کرنا، انھیں ان کی دنیوی واخراوی بھلائیوں کی رہنمائی کرنا اور ابھیں ان کے دینی ودنیوی شر اور نقصان سے ڈرانااور اس پر متنبہ کرنا۔ موت تک ایمان باﷲ اور ایمان بالآخرت پر پکار ہنا،نیز لوگوں شرکے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا، آگ سے نجات اور جنت میں داخلے کا سبب ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث مبارکہ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ہر انسان پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ ویسا سلوک اور برتاؤ کرے جیساوہ اپنے لیے لوگوں سے چاہتا ہے۔ حدیث اس بات پر صریح نص ہے۔ نبیﷺ کے ان کلمات کو آپ کے جومع الکلم میں سے شمار کیا گیا ہے۔ یہ شریعت مطہرہ کا اہم قاعدہ ہے۔ ہر مسلمان مرد اور عورت کو اس کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ ’’ابتدائی لوگوں مٰن ‘‘ معلوم ہوا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم افضل امت تھے۔ ان کا دین محفوظ تھا۔ دنیوی فتنوں کا بہت کم شکار ہوئے۔ ہلکے معلوم ہوں گے‘‘ یعنی بعد والا فتنہ پہلے فتنے سے بڑا ہوگا، لہٰذا پہلا فتنہ دوسرے کے مقابلے میں ہلکا محسوس ہوگا، حالانکہ وہ حقیقتاََ بہت بڑا ہوگا جیسا کہ حدیث ہی میں تفصیل مذکور ہے۔ ’’ گردن ماردو‘‘ اسلام میں بغاوت بہت بڑا جرم ہے۔ لوگ ایک امیر پر متفق اور مطمئن ہوں تو اس کے خلاف افرا تفری پیدا کرنے والا امن وامان کو درہم برہم کرنے والا بڑا مجرم ہے۔ اس کی سزا قتل ہے۔ گویا بغاوت ارتداد کے جرم کے برابر ہے۔ گزشتہ صفحات میں اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے۔