سنن النسائي - حدیث 4187

كِتَابُ الْبَيْعَةِ بَيْعَةُ مَنْ بِهِ عَاهَةٌ صحيح أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ آلِ الشَّرِيدِ يُقَالُ لَهُ عَمْرٌو، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ارْجِعْ فَقَدْ بَايَعْتُكَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4187

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل آفت زدہ شخص کی بیعت آل شرید کے ایک شخص عمرو کے والد سے بیعت سے متعلق احکام ومسائل روایت ہے کہ بنو ثقیف کے وفد میں ایک کوڑھی شخص بھی آیا تھا۔ بنی اکرمﷺ نے اسے پیغام بھیجا: ’’ واپس چلے جاؤ (میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں) میں نے تیری بیعت قبول کرلی ہے۔ ‘‘ 1۔باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت اس طرح بیتی ہے کہ مجذوم شخص سے بیعت لینا مشروع ہے، تا ہم ایسے شخص سے صرف زبانی کلامی بیعت بھی ہوسکتی ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خطر ناک بیماری میں مبتلا شخص سے دوری اختیار کرنا جائز ہے، تاہم ایسے شخص کو بالکل نظر انداز کرنا اور کلی طور پر اسے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دینا درست نہیں۔ اس کا علاج کرانا چاہیے۔ ضرورت کے مطابق اس سے میل جول اور اس کی معاونت ہو سکتی ہے۔ آفت زدپ شخص سے مراد وہ شخص ہے جو انتہائی قبیح مرض میں گرفتار ہو۔ لوگ اس سے بہت نفرت کرتے ہوں۔دوسرے لوگوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہو، مثلاََ: جذام (کوڑھ) یہ انتہائی قبیح اور خوف ناک مرض ہے۔ طبعاََ ہر آدمی اس سے دور بھاگتا ہے۔ اس مرض کا مواد مریض کے جسم پر ہر وقت موجود رہتا ہے۔ قریب آنے سے دوسرے شخص کو لگ سکتا ہے جس سے اس کے متاثر ہونے کو خدشہ ہے، اس لیے بنیﷺ نے اسے مجلس میں آنے سے منع فرما دیا۔ ایسے مریض کو خود بھی حتی الا مجالس میں آنے سے بچنا چاہیے۔ اﷲ تعالیٰ اس مرض سے بچائے۔ بیعت قبول کرلی ہے‘‘ کیونکہ اصل اعتبار تو دلی عہد کا ہے۔ زبان وہاتھ تو صرف تاکید کے لیے ہیں، ضروری نہیں۔