سنن النسائي - حدیث 4168

كِتَابُ الْبَيْعَةِ الْبَيْعَةُ عَلَى الْهِجْرَةِ صحيح أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَقَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ قَالَ: «ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4168

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل ہجرت پر بیعت حضرت عبداﷲ بن عمروؓسے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرمﷺ کے پاس حاضر ہوااور کہنے لگا کہ میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں جبکہ میں اپنے ماں باپ کو روتا چھوڑ آیا ہوں۔آپ نے فرمایا:’’ان کے پاس واپس جااور جیسے تو نے انھیں رلایا ہے اسی طرح انھیں ہنسا۔‘‘ ہجرت پر بیعت لینا مشروع نہیں رہا‘ہاں دار کفر سے دار اسلام کی طرف ہجرت باقی ہے لیکن بغیر بیعت کے۔ترجمتہ الباب یعنی ہجرت پر بیعت کے ساتھ حدیث کی مناسبت اس طرح بنتی کہ وجہ سے بیعت نہیں لی۔اگر اس کے والدین کا مسئلہ نہ ہوتا تو آُ بیعت لے لیتے۔والاین کی نافرمانی اور ان کوایذا پہنچانا حرام اور ناجائز ہے۔اسی طرح اگر جہازد کی فرضیت کے حالات بھی نہ ہوں تو اجازت کے بغیر جانا درست نہیں۔ہر دار کفر سے ہجرت کرنا فرض نہیں اگر قبضہ کافروں کا ہومگر وہ دینی امور میں رکاوٹ نہ ڈالتے ہوں تو وہاں سے ہجرت فرض نہیں جیسا کہ رسول اﷲﷺ نے مسلمانوں کو خود حبشہ بھیجا‘حالانکہ وہاں عیسائیوں کی حکومت تھی۔