سنن النسائي - حدیث 4159

كِتَابُ الْبَيْعَةِ الْبَيْعَةُ عَلَى الْأَثَرَةِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَمَّا سَيَّارٌ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَأَمَّا يَحْيَى فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كَانَ، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ» قَالَ شُعْبَةُ: «سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ حَيْثُمَا كَانَ، وَذَكَرَهُ يَحْيَى»، قَالَ شُعْبَةُ: «إِنْ كُنْتُ زِدْتُ فِيهِ شَيْئًا فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ أَوْ عَنْ يَحْيَى»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4159

کتاب: بیعت سے متعلق احکام و مسائل اطاعت کی بیعت کرنا اگرچہ دوسروں کو ترجیح دی جائے حضرت عبادہ بن ولید کے دادا محترم(حضرت عبادہ بن صامتؓ) سے روایت ہے کہ ہم رسول اﷲﷺ کی بیعت کی کہ ہم اپنی تنگی وآسانی اور اپنی پسند و ناپسند میں (ہر حال میں)آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے ‘خواہ دوسروں کو ہم پر ترجیح دی جائے۔اور ہم صاحبان اقتدار سے ان کا اقتدار نہیں چھینیں گے۔اور ہم جہاں کہیں بھی ہوں‘حق بات پر قائم رہیں گے۔اور ہم اﷲتعالیٰ(کی اطاعت) کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہیں کریں گے۔شعبہ نے کہا:حیث ما کان کے الفاظ سیارنے ذکر نہیں کیے‘یحییٰ نے ذکر کیے ہیں۔(سیارنے صرف وان نقول بالحق کے الفاظ کہے ہیں۔)شعبہ نے کہا:اگر میں نے اس میں کچھ زیادتی کی ہے تو وہ سیار یا یحییٰ کی طرف سے ہے۔ ’ترجیح دی جائے‘‘ظاہر ہے سب لوگوں کو عہدے نہیں دیے جاسکتے‘خواہ اہل ہی ہوں‘پھرا امیر سے غلطی بھی ممکن ہے کہ وہ ہر شخص سے اس کے مرتبے کے مطابق سلوک نہ کرسکے۔ایسی صورت میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ فلاں کو مجھ پر ترجیح دی گئی ہے اور مجھ سے میرے مقام ومرتبے کے مطابق سلوک نہیں کیا گیا۔لیکن اتنی بات سے امیر سے بغاوت یا اس کی نافامائی کو جائزقرار نہیں دیا جاسکتا لہٰذاایسے حالات میں بھی امیر سے وفادار رہنا ہوگا اور اس کی اطاعت کرنا ہوگی ورنہ وہ شرعاََ سزا لا حق دار ہوگا۔جس رسول اﷲﷺ کی وفات کے بعد امارت وحکومت قریش مہاجرین ہی کو ملی‘انصار محروم رہے مگر آفرین ہے ان مخلص ترین لوگوں پر کہ انھوں نے اپنے شہر میں اور اکثریت میں ہونے کے باوجود قریش کی امارت کو دل وجان سے تسلیم کیا اور کبھی مخالفت کانہیں سوچا۔