سنن النسائي - حدیث 4149

كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ اول كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ صحيح الإسناد مرسل أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ} [الأنفال: 41] قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ؟ قَالَ: «خُمُسُ الْخُمُسِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4149

کتاب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل موسیٰ بن ابو عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے یحییٰ بن جزار سے اس آیت: {وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ} ’’تم جان لو کہ جو بھی تھ غنیمت حاصل کرو، اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے لیے ہے۔‘‘ کے (مفہوم کے) کے بارے میں پوچھا۔ میں نے کہا کہ نبیٔ اکرمﷺ کا خمس میں کتنا حصہ تھا؟ انہوں نے کہا: خمس کا پانچواں حصہ۔ فائدہ: آیت کے ظاہر الفاظ سے استدلال کیا گیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ پانچ مصارف ذکر ہیں، لہٰذا ہر مصرف میں خمس کا پانچواں حصہ صرف کیا جائے گا لیکن یہ استدلال درست نہیں کیونکہ آیت میں یہ کہیں ذکر نہیں کہ ہر ایک کو برابر رکھو بلکہ یہ تو حالات و حاجات پر موقوف ہے۔ جس مصرف میں زیادہ کی ضرورت ہے، وہاں زیادہ صرف کیا جائے اور جس میں کم ضرورت ہے، وہاں کم خرچ کیا جائے۔ کسی ایک کا حصہ مقرر نہیں۔ روایت میں مذکور یحییٰ بن جزار کو غالی شیعہ کہا گیا ہے۔ و اللہ اعلم۔ ویسے وہ سچا تھا۔