سنن النسائي - حدیث 4148

كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ اول كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ صحيح الإسناد مرسل أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاقَ هُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ} [الأنفال: 41] قَالَ: «هَذَا مَفَاتِحُ كَلَامِ اللَّهِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ لِلَّهِ» قَالَ: اخْتَلَفُوا فِي هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَهْمِ الرَّسُولِ وَسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى، فَقَالَ قَائِلٌ: سَهْمُ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، وَقَالَ قَائِلٌ: سَهْمُ ذِي الْقُرْبَى لِقَرَابَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ قَائِلٌ: سَهْمُ ذِي الْقُرْبَى لِقَرَابَةِ الْخَلِيفَةِ، فَاجْتَمَعَ رَأْيُهُمْ عَلَى أَنْ جَعَلُوا هَذَيْنِ السَّهْمَيْنِ فِي الْخَيْلِ وَالْعُدَّةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَكَانَا فِي ذَلِكَ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4148

کتاب: مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل مال فے اور مال غنیمت کی تقسیم کے مسائل حضرت قیس بن مسلم سے رویات ہے کہ میں نے حضرت حسن بن محمد سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: {وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ} ’’جان لو کہ تم جو بھی غنیمت حاصل کرو، اس کا خمس اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔‘‘ کے (مفہوم کے) بارے میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا آغاز کلام کا انداز ہے ورنہ دنیا اور آخرت سب اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں، البتہ رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد آپ اور قرابت داروں کے دو حصوں میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ بعض نے کہا کہ آپ کے بعد آپ کا حصہ خلیفہ اور حاکم وقت کے لیے ہو گا۔ اسی طرح بعض نے کہا کہ رشتے داروں کا حصہ اب بھی رسول اللہﷺ کے اہل بیت کے لیے ہے۔ اور بعض نے کہا: اب رشتے داروں کا حصہ خلیفۂ وقت کے رشتے داروں کے لیے ہو گا، پھر بالآخر انہوں نے اس بات پر اتفاق کر لیا کہ یہ دونوں حصے جہاد کے لیے گھوڑے اور اسلحہ خریدنے میں خرچ کیے جائیں، چنانچہ حضرات ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں یہ دونوں حصے اسی مصرف میں خرچ ہوتے رہے۔ فوائد و مسائل: (۱) رسول اللہﷺ کا جو حصہ تھا، آپ کے بعد اس کے حق دار خلیفۂ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور صدیق اکبر کے بعد خلیفۂ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے لیکن ان دونوں محترم بزرگوں نے ہرگز وہ حصہ نہ لیا۔ یہ حدیث ان کی حقانیت اور بے نیازی و غناء کی بہت بڑی دلیل ہے۔ (۲) جیسا کہ پہلے بھی پیچھے گزر چکا ہے کہ خمس دراصل بیت المال کا ہے۔ اس میں کسی کا کوئی حصہ مقرر نہیں۔ جہاں ضرورت ہو خرچ کیا جائے، مثلاً: حاکم وقت اور دیگر ملازمین کی تنخواہ، ضرورت مند اور محتاج حضرات کے وظائف، جہاد کی تیاری اور مسلمانوں کی بہبود کے دوسرے کام۔ رسول اللہﷺ نے خمس میں جو تصرف فرمایا، وہ اللہ کے حکم کے مطابق فرمایا اور یہی رسول کی ذمہ داری ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھئے فوائد، حدیث: ۴۱۳۸)