سنن النسائي - حدیث 4132

كِتَابُ المُحَارَبَة تَحْرِيمُ الْقَتْلِ صحيح أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَلَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4132

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان مسلمان کا قتل حرام ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اتارنے لگو۔ کسی آدمی کو اس کے باپ یا بھائی کے جرم میں نہیں پکڑا جا سکتا۔‘‘ البتہ قتل خطا میں قاتل کے نسبی رشتے دار بلکہ پورا قبیلہ اس کے ساتھ مل کر دیت ادا کریں گے۔ یہ اس روایت کے خالف نہیں کیونکہ خَطَأ قتل جرم نہیں اور مقتول کی دیت بھرنا رشتے داروں کے لیے سزا نہیں بلکہ یہ تو صرف اس شخص کے ساتھ تعاون ہے جس سے بلاقصد و ارادہ قتل صادر ہو گیا۔ اور مسلمان مقتول کا خون رائیگاں نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں، اگر قاتل نے جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو اس کا قصاص اسی سے لے لیا جائے گا اور اگر دیت پر معاملہ طے ہو جائے تو وہ دیت بھی خود ہی ادا کرے گا۔ رشتے داروں پر کوئی ذمہ داری عائد نہ ہو گی کیونکہ وہ مجرم ہے اور مجرم سے تعاون کیسا؟