سنن النسائي - حدیث 4119

كِتَابُ المُحَارَبَة التَّغْلِيظُ فِيمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ صحيح أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ مِنَ الطَّاعَةِ، وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً، وَمَنْ خَرَجَ عَلَى أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا، وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَى مِنْ مُؤْمِنِهَا، وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي، وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عُمِّيَّةٍ، يَدْعُو إِلَى عَصَبِيَّةٍ، أَوْ يَغْضَبُ لِعَصَبِيَّةٍ فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4119

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان جو شخص کسی مبہم جھنڈے کے نیچے لڑے ، اس کی بابت شدید وعید حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص (تسلیم شدہ امیر کی) اطاعت سے نکل جائے اور جماعت سے جدا ہو جائے، اگر وہ اسی حال میں مرا تو جاہلیت کی موت مرا۔ جو شخص میری امت کے خلاف (مسلح ہو کر) نکلا اور ہر نیک و بد کو بلا امتیاز قتل کرنے لگا، وہ نہ مومن کی پروا کرتا ہے نہ کسی ذمی کے عہد کا لحاظ رکھتا ہے تو اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ اور جو شخص (کسی قسم کے حزبی، قومی یا مذہبی گروہی تعصب میں آ کر) کسی مبہم اور اندھے جھنڈے کے نیچے لڑا، کسی ایک جماعت کی طرف دعوت دیتا ہے یا کسی جماعت کی خاطر وہ غصے میں آ کر لڑتا ہے اور مارا جاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہو گی۔‘‘ (۱) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے کہ جو شخص اندھا دھند گروہی اور حزبی تعصب کا شکار ہو کر اندھے اور مبہم جھنڈے کے نیچے لڑتا ہوا مرا، وہ حرام موت ہی مرا۔ (۲) اس حدیث شریف کا تقاضا ہے کہ تمام اہل اسلام کو شرعی طور پر بااختیار حاکم و امیر مقرر کر کے اس کے ہاتھ مضبوط کرنے چاہئیں اور اس کی ہدایات کے مطابق دشمنانِ اسلام کے خلاف برسرپیکار ہونا چاہیے۔ (۳) بااختیار شرعی حاکم و امیر کی اطاعت واجب ہے، نیز مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ لزوم بھی ضروری ہے۔ (۴) اہل اسلام جس شخص کو اپنا امام و حاکم مقرر کر دیں، شرعی تقاضوں کے مطابق اس کی اتباع واجب اور سبیل المومنین کی مخالفت حرام ہے۔ (۵) مذکورہ صفات کے حامل شرعی امیر کی اطاعت نہ کرنے والا اہل جاہلیت کے مشابہ ہے، اور اسی حالت میں مر جانے والا جاہلیت کی موت مرے گا۔ (۶) ایسے شرعی حاکم کی مخالفت کرنا، اس کی اطاعت نہ کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ (۷) اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فسق و فجور اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب، ملتِ اسلامیہ سے خارج نہیں ہوتا الا یہ کہ وہ صریح کفر کا ارتکاب کرے یا مرتد ہو کر دین اسلام سے کنارہ کش ہو جائے۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ۔ (۸) ’’تسلیم شدہ امیر‘‘ اس سے مراد وہ مسلمان حاکم ہے جو یا تو منتخب شدہ ہو یا ویسے لوگ اس پر متفق ہوں، وہ امن و امان قائم کرتا ہو، مجرمین کو سزائیں دیتا، (شرعی حدود ہوں یا دیگر سزائیں) اور امت مسلمہ کے دفاع کا فریضہ سر انجام دیتا ہو، نہ کہ وہ کاغذی امیر جن کو ٹڈی دل تنظیمیں اپنا امیر بنا لیتی ہیں اور وہ بیکت وقت ایک دوسرے کے مخالف بھی ہوتی ہیں۔ ایسے امیر سوائے دفتری سہولتوں کے استعمال کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ نہ ملکی انتظام میں ان کا کوئی دخل ہوتا ہے اور نہ ملکی دفاع میں۔ نہ ان کی اطاعت کا معاشرے کو کوئی فائدہ ہے نہ ان کی نافرمانی کا نقصان۔ وہ تنظیمیں سیاسی ہوں یا مذہبی، ہر شہر میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ ایک پولیس اہل کار ان کے امیروں سے زیادہ اختیارات کا مالک ہوتا ہے۔ ایسے امیر اور ایسی تنظیمیں یہاں مراد نہیں۔ جب تک کسی کا جی کرے، ان تنظیموں میں رہے اور اور جب جی کرے، انہیں چھوڑ جائے۔ ان میں داخل ہونے کا کوئی عذاب نہیں، البتہ اگر اس نے کوئی عہد اور وعدہ کیا ہو تو اس کی پابندی ضروری ہے بشرطیکہ وہ وعدہ اور عہد شریعت کے خلاف نہ ہو۔ (۹( ’’جماعت سے جدا ہو جائے‘‘ جماعت سے مراد مسلمانوں کی جماعت ہے جو ایک امام و حاکم پر متفق ہو یا اکثریت اس پر متفق ہو۔ ایسی صورت میں اقلیت کو بھی حاکم ہی کی اطاعت کرنا ہو گی۔ اگر کوئی شخص ایسی جماعت سے نکل جائے، یعنی امیر سے باغی ہو جائے اور جماعت میں تفرقہ کی کوشش کرے تو خواہ وہ طبعی موت مرے یا حکومت اسے بغاوت کی سزا میں مار دے، اس کی موت غیر اسلامی ہو گی۔ (۱۰) ’’جاہلیت کی موت‘‘ یعنی جاہلیت میں لوگ بغیر کسی امارت اور نظم کے رہتے تھے۔ کوئی کسی کا ماتحت نہ تھا۔ اسی طرح یہ بھی نظم اور جماعت سے باہر مرا، گویا کافروں جیسی موت مرا اگرچہ وہ کافر نہیں۔ یہ تب ہے اگر وہ بغاوت نہ کرے اور فتنہ پیدا نہ کرے۔ اگر وہ بغاوت کرے، فتنہ پیدا کرے یا امت مسلمہ میں تفریق پیدا کرے تو وہ واجب القتل ہے۔ (۱۱) ’’اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں‘‘ کیونکہ وہ باغی کے حکم میں ہے۔ اس سے خارجیوں والا سلوک ہو گا۔ (دیکھئے، حدیث: ۴۱۰۴، ۴۱۰۶، ۴۱۰۸) (۱۲) ’’مبہم اور اندھے جھنڈے‘‘ مبہم سے مراد جس کا حق یا باطل ہونا واضح نہ ہو۔ اور اندھے سے مراد کہ وہ لڑائی کسی فرقے، گروہ یا نسل کی خاطر ہو۔ اس کی بنیاد تعصب پر ہو۔ ایسی جنگ میں مارا جانے والا حرام موت مرے گا جس طرح لوگ دور جاہلیت میں اپنے قبیلے، گروہ یا ساتھی اور دوست کے لیے لڑتے تھے۔ حق ناحق کا کوئی ایسا امتیاز نہ تھا اور حرام موت مرتے تھے۔ صرف اعلام کلمۃ اللہ کی خاطر لڑنے والا ہی شہادت کی موت مرے گا نہ کہ مسلمانوں کے ساتھ لڑنے والا، خواہ وہ کیسا ہی خوش نما نعرہ لگا کر کیوں نہ لڑے، مثلاً: حب اہل بیت یا حب صحابہ وغیرہ۔ یہ اس لیے کہ باہمی لڑائی بہرحال حرام ہے۔ و اللہ اعلم۔