سنن النسائي - حدیث 411

كِتَابُ الْغُسْلِ وَالتَّيَمُّمِ بَاب اغْتِسَالِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ مِنْ نِسَائِهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ صحيح الإسناد أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ هِشَامٍ ح و أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْتَسِلُ وَأَنَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نَغْتَرِفُ مِنْهُ جَمِيعًا وَقَالَ سُوَيْدٌ قَالَتْ كُنْتُ أَنَا

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 411

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل خاومد بیوی کا ایک برتن میں نہانا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور میں ایک یہ برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ ہم اکٹھے پانی کے چلو لیتے تھے۔ حضرت سوید نے اپنی حدیث میں کہا: [کنت انا] اس روایت میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دو استاد ہیں سوید بن نصر اور قتیبہ بن مالک۔ قتیبہ نے حدیث بیان کرتے وقت یوں کہا: [کان یغسل وانا] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میں اکٹھے غسل کیا کرتے تھے۔‘‘ جبکہ سوید بن نصر نے یوں کہا: [کنت اغسل انا ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] ’’میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکٹھے غسل کیا کرتے تھے۔‘‘ صرف لفظی تقدیم و تاخیر ہے، معنی میں کوئی فرق نہیں۔ یہ محدثین کی دیانت اور حفظ کا کمال ہے کہ انھوں نےا یسے معمولی لفظی فرق کو بھی نہ صرف یاد رکھا بلکہ اس کی وضاحت بھی فرما دی۔