سنن النسائي - حدیث 4109

كِتَابُ المُحَارَبَة قِتَالُ الْمُسْلِمِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قِتَالُ الْمُسْلِمِ كُفْرٌ، وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4109

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان مسلمان سے ( مسلح ) لڑائی لڑنا ( کفر کی بات ہے ) حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان سے لڑنا کفر اور اسے گالی دینا فسق (کبیرہ گناہ) ہے۔‘‘ (۱) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے کہ مسلمان کے ساتھ لڑائی کرنا بہت بڑا کبیرہ گناہ اور کفریہ عمل ہے۔ (۲) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان کی عزت و حرمت اور اس کا وقار بہت زیادہ ہے، لہٰذا جو شخص کسی مسلمان کی بے عزتی اور توہین کرتا یا اسے ستاتا ہے، وہ ایمان کے تقاضے پامال کرتا ہے، چنانچہ اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے اس پر لازم ہے کہ وہ ہر مسلمان کی تعظیم و تکریم کرے، نیز اسے بے عزت کرنے سے احتراز کرے اور گالی گلوچ جیسے قبیح عمل سے کنارہ کشی کرتے ہوئے محتاط رویہ اپنائے۔ یہ کام کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔ (۳) اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب عام مسلمان کو گالی گلوچ دینا کبیرہ گناہ اور ناجائز عمل ہے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو تمام امت سے افضل و اکرم اور اعلیٰ و ارفع درجے کے مسلمان ہیں، ان کو سب و شتم کا نشانہ بنانا کس قدر گندا او، قبیح و غلیظ عمل اور گھنائونا جرم ہو گا۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ۔ (۴) یہ حدیث مرجئہ فرقے کے اس باطل عقیدے کا صریح طور پر رد کرتی ہے کہ انسان کے لیے ایمان کے ساتھ گناہ نقصان دہ نہیں ہوتے، نیز ان کے اس عقیدے کا بھی اس حدیث سے رد ہوتا ہے کہ اعمال ایمان کا حصہ نہیں۔ (۵) حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ازحد ضروری ہے۔ ایک کامل مومن کے لیے ضروی ہے کہ سرتاپا اپنے تمام اعضاء کو سوچ سمجھ کر استعمال کرے، بالخصوص ہاتھ اور زبان سے کسی بھی مسلمان کو معمولی سے معمولی نقصان اور تکلیف تک نہ دے۔ (۶) ’’لڑائی لڑنا‘‘ اس سے مسلح لڑائی مراد ہے۔ زبانی یا دستی یا لاٹھی کی لڑائی کو عربی زبان میں قتال نہیں کہتے کیونکہ اس قسم کی لڑائی میں کسی کے قتل ہونے کا غالب امکان نہیں ہوتا۔ (قتال قتل سے بنا ہے۔) (۷) ’’کفر ہے‘‘ یہاں کفر سے مراد کفر دون کفر ہے، وہ کفر مراد نہیں جس کی وجہ سے مسلمان مسلمان ہی نہیں رہتا، یعنی یہاں کفر اکبر مراد نہیں بلکہ کفریہ عمل کی نشاندہی مراد ہے، نیز مسلمان سے لڑائی کی شدید قباحت کا بیان مقصود ہے۔ و اللہ اعلم۔ (۸) فسق سے مراد کبیرہ گناہ ہے۔ جس کے کرنے سے انسان کافر تو نہیں بنتا مگر صحیح مومن بھی نہیں رہتا۔ گالی گلوچ اس لیے فسق ہے کہ یہ لڑائی کا پیش خیمہ ہے۔ عام طور پر گالی گلوچ قتل قتل و قتال کا سبب بن جاتے ہیں، نیز گالی گلوچ کرنا فاسقین کا کام ہے۔ مزید برآں یہ بھی کہ جن کاموں کو کفر و فسق یا جاہلیت کے کام کہا گیا ہے، ان سے بچنا بہت ضروری بلکہ واجب ہے کیونکہ ایسے کام کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتے اور نہ کسی مومن کے لائق ہی ہیں۔