سنن النسائي - حدیث 4100

كِتَابُ المُحَارَبَة مَنْ قَاتَلَ دُونَ دِينِهِ صحيح أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ دَاوُدَ الْهَاشِمِيَّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4100

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان جو شخص اپنے دین کو بچانے کے لیے لڑائی کرے ؟ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے مال کو (لٹیروں سے) بچاتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔ اور جو شخص اپنے گھر والوں کا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے۔ اور جو شخص اپنے دین کی خاطر مارا جائے، وہ بھی شہید ہے۔ اور جو شخص اپنی جان بچاتے ہوئے مارا جائے، وہ بھی شہید ہے۔‘‘ ’’دین کی خاطر‘‘ یعنی کسی نے اسے دھمکی دی کہ اپنا دین (اسلام) چھوڑ دے ورنہ تجھے قتل کر دوں گا۔ اس نے دین نہ چھوڑا، قتل ہونا قبول کر لیا، تو وہ شہید ہے۔ اس کی شہادت میں کیا شک ہے جبکہ اسے شرعاً اجازت تھی کہ وہ ایسی حالت میں کلمۂ کفر کہہ سکتا ہے بشرطیکہ دلی طور پر ایمان اسلام پر پکا رہے لیکن اس نے رخصت کی بجائے عزیمت پر عمل کیا۔ رضی اللہ عنہ و أرضاہ۔