سنن النسائي - حدیث 410

كِتَابُ الْغُسْلِ وَالتَّيَمُّمِ بَاب الدَّلِيلِ عَلَى أَنْ لَا تَوْقِيتَ فِي الْمَاءِ الَّذِي يُغْتَسَلُ فِيهِ صحيح أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ فِي الْإِنَاءِ وَهُوَ الْفَرَقُ وَكُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَهُوَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 410

کتاب: غسل اور تیمم سے متعلق احکام و مسائل اس بات کی دلیل کہ غسل کے لیے پانی کی کوئی مقدارمقرر نہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک فرق (برتن) سے غسل فرمایا کرتے تھے، نیز میں اور آپ ایک ہی برتن سے غسل کرلیا کرتے تھے۔ 1-باب پر دلالت آخری ٹکڑے سے ہے۔ جب دو افراد اکٹھے ایک برتن سے غسل کررہے ہوں تو ضروری نہیں کہ دونوں یکساں پانی استعمال کریں۔ لازماً کمی بیشی ہوگی۔ یہی باب کا عنوان ہے کہ غسل کے لیے پانی کی کوئی مقدار مقرر نہیں۔ ) ۲) ’’فرق‘‘ تین صاع کا ہوتا ہے۔ اور ایک صاع تقریباً اڑھائی کلو کا ہوتا ہے۔ بعض احادیث میں غسل کے لیے ایک صاع کا بھی ذکر ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری، حدیث۲۵۱) اور بعض میں ڈیڑھ صاع کا ذکر ملتا ہے۔ دیکھیے: (سنن النسائی، الطہارۃ، حدیث۲۲۷) ان احادیث میں باہم کوئی تعارض نہیں بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ غسل میں کم سے کم پانی استعمال کیا کرتے تھے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث۲۳۲ اور اس کا فائدہ)