سنن النسائي - حدیث 4086

كِتَابُ المُحَارَبَة مَا يَفْعَلُ مَنْ تَعَرَّضَ لِمَالِهِ حسن صحيح أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح، وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ قَالَ: ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يَأْتِينِي فَيُرِيدُ مَالِي، قَالَ: «ذَكِّرْهُ بِاللَّهِ» قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَذَّكَّرْ؟ قَالَ: «فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ» قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَوْلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: «فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ» قَالَ: فَإِنْ نَأَى السُّلْطَانُ عَنِّي؟ قَالَ: «قَاتِلْ دُونَ مَالِكَ حَتَّى تَكُونَ مِنْ شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ، أَوْ تَمْنَعَ مَالَكَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4086

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان جس شخص کا مال چھیننے کی کوشش کی جائے ، وہ کیا کرے؟ حضرت قابوس کے والد محترم حضرت مخارق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور میرا مال چھیننا چاہتا ہے۔ (تو میں کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: ’’اسے اللہ تعالیٰ سے نصیحت کر (اس کی وعید سے ڈرا)۔‘‘ اس نے کہا: اگر وہ نصیحت نہ مانے تو؟ آپ نے فرمایا: ’’اپنے آس پاس کے مسلمانوں سے مدد حاصل کر۔‘‘ اس نے کہا: اگر میرے آس پاس کوئی مسلمان نہ ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: ’’حاکم سے مدد طلب کر۔‘‘ اس نے کہا: اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو؟ فرمایا: ’’پھر اپنے مال کی حفاظت کے لیے لڑائی کر حتی کہ تو (مارا جائے اور) آخرت میں شہید بن جائے یا اپنے مال کو بچا لے۔‘‘ (۱) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے، وہ اس طرح کہ جس شخص سے اس کا مال چھینا جا رہا ہو، اس کے لیے دفاع کرنا جائز ہے۔ (۲) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دفاع کرنا اگرچہ درست ہے، تاہم یہ کام تدریجاً کرنا زیادہ بہتر ہے، یعنی پہلے ڈاکو وغیرہ کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ، اس کے مؤاخذے اور عذاب سے ڈرایا جائے۔ اگر اس کا اثر نہ ہو تو آس پاس کے مسلمانوں سے اس کے خلاف مدد لی جائے۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو حاکم وقت سے مدد طلب کی جائے۔ جب کوئی او چارۂ کار نہ ہو تو لڑنا اور اسے قتل کرنا یا اس کے ہاتھوں شہید ہونا جائز ہے۔ ہاں، اس مقابلے میں اگر ڈاکو اور لٹیرا مارا جائے تو اس کا خون ضائع ہے۔ اپنا دفاع کرنے والے شخص سے نہ تو قصاص لیا جائے گا اور نہ اس پر کسی قسم کی کوئی دیت وغیرہ ہی آئے گی۔ و اللہ اعلم (۳) اس حدیث شریف سے واضح طور پر یہ بھی معلوم ہوا کہ لڑائی کرنا آخری چارۂ کار ہے۔ اس سے پہلے ہر ممکن ذرائع سے لڑائی سے بچا جائے کیونکہ لڑائی نقصان والی چیز ہے، البتہ اگر کوئی چارۂ کار نہ رہے تو اپنا مال بچانے کے لیے لڑائی کی جا سکتی ہے۔ اس دوران میں اگر وہ خود مارا جائے تو شہید ہو گا، یعنی عظیم ثواب کا مستحق ہو گا اور اگر وہ ڈاکو کو مار دے تو اس پر کوئی قصاص، دیت یا تاوان عائد نہ ہو گا جیسا کہ اس سے پہلے بھی یہ بیان ہو چکا ہے۔ لیکن لڑائی سے پہلے یہ دیکھ لے کہ میں اس کا ہم پلہ بھی ہوں؟ یعنی میرے پاس بھی اسلحہ وغیرہ ہے۔ خالی ہاتھ مسلح آدمی سے لڑنا حماقت ہے۔ جان یقینا مال سے زیادہ قیمتی ہے اور قرآن مجید کا حکم ہے کہ ’’اپنے آپ کو خواہ مخواہ ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘ گویا لڑائی واجب نہیں، جائز ہے بشرطیکہ وہ ڈاکو کا مقابلہ بھی کر سکتا ہو۔ پھر زندگی، موت اللہ کے سپرد ہے۔ البتہ عزت بچانے کے لیے بے دریغ بھی لڑ پڑے تو اجر کا مستحق ہو گا اور مارے جانے کی صورت میں شہید ہو گا۔ (۴) اس حدیث میں جو شہید کہا گیا ہے اس سے مراد شہید معرکہ نہیں بلکہ آخرت میں ثواب کے اعتبار سے اسے شہید قرار دیا گیا ہے، چنانچہ ایسے شخص کو غسل بھی دیا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔