سنن النسائي - حدیث 4076

كِتَابُ المُحَارَبَة الْحُكْمُ فِيمَنْ سَبَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صحيح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُدَامَةَ بْنِ عَنَزَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: أَغْلَظَ رَجُلٌ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَقُلْتُ: أَقْتُلُهُ، فَانْتَهَرَنِي وَقَالَ: «لَيْسَ هَذَا لِأَحَدٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4076

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان جو شخص نبی اکرمﷺ کو گالی دے ، اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں کوئی بکواس بکا۔ میں نے کہا: میں اسے قتل کر دوں؟ انہوں نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا: رسول اللہﷺ کے بعد یہ کسی کا حق نہیں۔ (۱) خلیفۂ بلا فصل، یعنی خلیفۂ اول کے فرمان سے صاف معلوم ہو گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک رسول اللہﷺ کو گالی بکنے والا واجب القتل ہے۔ (۲) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ کو یا کسی مسلمان حکمران کو گالی دینے والا قتل کا مستحق نہیں کیونکہ نبیﷺ کے فرمان کی رو سے وہ فاسق ہے، کافر نہیں۔ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ۔ اسے کوئی اور سزا دی جائے گی، مثلاً: قید، کوڑے، جلاوطنی وغیرہ۔ (۳) اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ خلیفۂ بلافصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ انتہائی متحمل مزاج، باحوصلہ اور بہت زیادہ درگزر کرنے او معاف کرنے والے انسان تھے۔ (۴) حضرت ابو برزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ خلیفۂ رسول کی محبت میں اس قدر سرشار تھے کہ ان کی ذات کے متعلق سوء ادبی کے مرتکب شخص کا سر تن سے جدا کرنے پر تیار ہو گئے تھے۔