سنن النسائي - حدیث 4048

كِتَابُ المُحَارَبَة ذِكْرُ اخْتِلَافِ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ صحيح أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ، ثِقَةٌ مَأْمُونٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «إِنَّمَا سَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيُنَ أُولَئِكَ، لِأَنَّهُمْ سَمَلُوا أَعْيُنَ الرُّعَاةِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4048

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان اس حدیث میں یحییٰ بن سعید پر طلحہ بن مصرف اور معاویہ بن صالح کے اختلاف کا ذکر حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ان کی آنکھیں اس لیے پھوڑی تھیں کہ انہوں نے چرواہوں کو آنکھیں پھوڑی تھیں۔ ’’چرواہوں‘‘ ذکر کردہ بیس روایات میں سے ایک دو میں جمع کا لفظ آیا ہے۔ باقی تمام روایات میں ایک چرواہے کا ذکر ہے۔ یہی صحیح ہے۔ اختلاف کے وقت راجح دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اس رویات کو بیس دفعہ ذکر فرمایا ہے تاکہ واقعے سے متعل تمام تفصیلات کا علم ہو جئاے اور کوئی بات اوجھل نہ رہے، نیز اگر کوئی اختلاف ہے تو وہ بھی واضح ہو جائے۔ اگرچہ امام صاحب کا اصل مقصد سند کے اختلافات بیان کرنا ہوتا ہے جن کو جاننے کے لیے سند کا دقت سے جائزہ لینا پڑتا ہے۔ بعض راوی متصل بیان کرتے ہیں بعض منقطع وغیرہ۔ بعض ایک صحابی کا نام لیتے ہیں اور بعض دوسرے کا۔ حقیقت حال کا جائزہ لیتے ہوئے ترجیح و تقدیم کا فیصلہ ہوتا ہے۔