سنن النسائي - حدیث 4033

كِتَابُ المُحَارَبَة ذِكْرُ اخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فِيهِ صحيح دون قوله : " و صلبهم " أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُهُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ نَاسًا مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ، فَبَعَثَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَوْدٍ لَهُ، فَشَرِبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَلَمَّا صَحُّوا، ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا، وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ، فَأُخِذُوا، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، وَصَلَبَهُمْ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4033

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان حمید کی ، حضرت انس بن مالک ﷜ سے مروی حدیث میں ناقلین کے اختلاف کا ذکر حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ عرینہ قبلیے کے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ( اور اسلام قبول کیا)، پھر انہوں نے مدینہ منورہ کی آب و ہوا کو ناموافق پایا تو نبی اکرمﷺ نے ان کو اپنے اونٹوں میں بھیج دیا۔ انہوں نے (چند دن تک) ان کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جب وہ تندرست ہو گئے تو وہ اسلام سے مرتد ہو گئے، رسول اللہﷺ کے صاحب ایمان چرواہے کو قتل کیا اور اونٹ ہانک کر چلتے بنے۔ رسول اللہﷺ نے ان کی تلاش میں آدمی بھیجے۔ وہ پکڑ کر لائے گئے۔ آپ نے ان کے ہاتھ پائوں سختی کے ساتھ کاٹ دئیے۔ ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر کر ان کو پھوڑ دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا۔ (۱) ترجمۃ الباب میں جس اختلاف کا ذکر ہے، اس باب کے تحت مذکور احادیث پر غور کرنے سے معلوم ہوات ہے کہ وہ اختلاف دو قسم کا ہے: ایک اختلاف تو یہ ہے کہ حمید سے یہ روایت ان کے کئی شاگرد بیان کرتے ہیں، مثلاً: عبداللہ بن عمر العمری، اسماعیل بن ابو کثیر، خالد بن حارث الہجیمی اور اور محمد بن ابو عدی۔ لیکن صَلَبَہُمْ ’’آپ نے انہیں سولی پر لٹکا دیا‘‘ کے الفاظ صرف عبداللہ بن عمر العمری بیان کرتا ہے، حمید کے مذکورہ دوسرے شاگردوں میں سے کوئی بھی یہ الفاظ بیان نہیں کرتا، اس لیے اس روایت میں مذکور الفاظ ’’صَلَبَہُمْ ‘‘ کا اضافہ درست نہیں بلکہ یہ اضفہ منکر ہے کیونکہ عبداللہ العمری دوسرے ثقہ راویوں کی مخالفت کرتا ہے جبکہ وہ خود ضعیف ہے۔ (۲) اس میں دوسرا اختلاف یہ ہے کہ اس روایت میں اَبْوَالِہَا کے جو الفاظ ہیں وہ اگرچہ درست ہیں لیکن یہ الفاظ حمید کے دو شاگرد عبداللہ بن عمر العمری اور اسماعیل بن ابو کثیر بیان کرتے ہیں تو وہ حمید عن انس کی سند سے بیان کرتے ہیں جبکہ حمید کے شاگرد خالد الہجیمی اور محمد بن ابو عدی اَبْوَالِہَا کے الفاظ حمید عن قتادۃ عن انس کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ ترجیح بھی انہی کی روایت کو ہے کیونکہ یہ العمری اور اسماعیل سے اثبت ہے۔ و اللہ اعلم۔ (۳) کسی مجرم کو سزا کے طور پر سولی پر لٹکانا اگرچہ جائز ہے تاکہ لوگوں کو اس سے عبرت حاصل ہو، لیکن اس روایت میں مذکور سولی پر لٹکانے کے الفاظ کا اضافہ منکر ہے کیونکہ اس میں عبداللہ عمری نے، جو کہ ضعیف راوی ہے، ثقات کی مخالفت کی ہے۔