سنن النسائي - حدیث 4017

كِتَابُ المُحَارَبَة ذِكْرُ الْكَبَائِرِ حسن أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَبُوهُ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْكَبَائِرُ؟ قَالَ: «هُنَّ سَبْعٌ، أَعْظَمُهُنَّ إِشْرَاكٌ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَفِرَارٌ يَوْمَ الزَّحْفِ» مُخْتَصَرٌ

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4017

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان کبیرہ گناہوں کا ذکر حضرت عبید بن عمر سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد محترم نے بیان فرمای، اور وہ نبیﷺ کے صحابی تھے، کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ’’وہ سات ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا اللہ تعالیٰ کیس اتھ شریک ٹھہرانا ہے۔ (دیگر یہ ہیں:) کسی شخص کو ناحق قتل کرنا اور جنگ کے دن میدان سے بھاگ جانا وغیرہ۔‘‘ یہ روایت مختصر ہے۔ (۱) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین، مثلاً: محدث العصر علامہ البانی اور علامہ ایتوبی وغیرہ نے ساے حسن کہا ہے اور دلائل کی رو سے انہی کی رائے اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے: (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائی: ۳۱/۲۹۶-۲۹۸) (۲) اس کی تفصیل دوسری روایت میں ہے۔ صحابی نے رسول اللہﷺ سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! گناہ کبیرہ کتنے ہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’وہ نو ہیں۔ ان میں سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے اور (دیگر یہ ہیں:) کسی مومن کو ناحق قتل کرنا، جنگ کے دن میدان سے بھاگ جانا، پاک دامن خاتون پر گناہ کی تہمت لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھان، سود کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، بیت اللہ میں قتال کرنا … روایت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (المستدرک للحاکم: ۱/۵۹، و السنن الکبری للبیہقی: ۱۰/۱۸۶)