سنن النسائي - حدیث 4014

كِتَابُ المُحَارَبَة ذِكْرُ الْكَبَائِرِ صحيح أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ قَالَ: حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ، حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ، وَلَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ كَانَ لَهُ الْجَنَّةُ» فَسَأَلُوهُ عَنِ الْكَبَائِرِ، فَقَالَ: «الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ، وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4014

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان کبیرہ گناہوں کا ذکر حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں حاضر ہوا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا رہا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو، نماز پابندی کے ساتھ پڑھتا رہا ہو، زکوٰۃ (پوری کی پوری) دیتا رہا ہو اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہا ہو، اس کے لیے جنت ہے۔‘‘ لوگوں نے آپ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں پوچھا (کہ وہ کون کون سے ہیں؟) تو آپ نے (بطور مثال) ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا، مسلمان شخص کو قتل کرنا اور لڑائی کے دن بھاگ جانا۔‘‘ (۱) اس حدیث میں دین کے بنیادی اصول اور ان کی اہمیت بیان کی گئی ہے کہ ان امور پر قائم رہنا اور ان کے منافی امور سے بچنا ہی جنت میں دخول کا سبب بن سکتا ہے۔ (۲) ’’اس کے لیے جنت ہے‘‘ کیونکہ یہ نیکیاں باقی گناہوں پر غالب آ جائیں گی اور فیصلہ غالب کی بنیاد پر ہو گا ورنہ غلطی سے پاک تو کوئی شخص بھی نہیں۔ الا ما شاء اللہ۔ (۳) اس حدیث میں صرف تین گناہوں کو کبیرہ کہا گیا ہے جبکہ قرآن و سنت کے دیگر دلائل سے اور بھی بہت سے گناہ کبیرہ قرار پاتے ہیں۔ یہ تین گناہ بطور مثال بیان کیے گئے ہیں بطور حصر نہیں، کیونکہ کبیرہ گناہ صرف یہی نہیں۔ کبیرہ گناہوں کی بابت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے استفسار کا جواب دیتے ہوئے رسول اللہﷺ نے صرف مذکورہ تین گناہوں کا ذکر فرمایا ہے، اس موقع پر ان کے علاوہ اور کسی گناہ کا آپ نے نام نہیں لیا، ممکن ہے کہ اس جواب سے اس وقت آپ کا مقصد اسی بات کی طرف اشارہ فرمانا ہو کہ کبیرہ گناہ کسی خاص قسم یا کسی ایک صفت میں محصور نہیں بلکہ کسی معاملے میں حقوق اللہ کی تلفی کبیرہ گناہ ہوتی ہے تو کسی معاملے میں مسلم معاشرے کے مسلمان افراد کی حق تلفی کبیرہ گناہ ہوتی ہے اور اسی طرح کبھی کافروں کے ساتھ کوئی معاملہ درپیش ہو تو اس میں بھی آدمی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو سکتا ہے، اس لیے ہر حال میں اور ہر موقع پر ایک مسلمان شخص کو انتہائی محتاط زندگی بسر کرنی چاہیے۔ (۴) کبیرہ گناہوں سے بچنے کی وجہ سے صغیر گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ و اللہ اعلم۔