سنن النسائي - حدیث 4012

كِتَابُ المُحَارَبَة تَعْظِيمُ الدَّمِ حسن صحيح أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدٍ فِي قَوْلِهِ: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93] قَالَ: «نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بَعْدَ الَّتِي فِي تَبَارَكَ الْفُرْقَانِ بِثَمَانِيَةِ أَشْهُرٍ»، {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ} [الفرقان: 68] قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: «أَدْخَلَ أَبُو الزِّنَادِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ خَارِجَةَ مُجَالِدَ بْنَ عَوْفٍ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 4012

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان مومن کا خون انتہائی قابل تعظیم ہے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت: {و من یقتل مؤمنا متعمدا فجزاء ہ جہنم} ’’جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے… الخ‘‘ سورۂ فرقان والی (آئندہ) آیت سے آٹھ ماہ بعد نازل ہوئی ہے: {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِِلٰہًا آخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِِلَّا بِالْحَقِّ} ’’جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو ناحق قتل نہیں کرتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے۔ مگر حق کے ساتھ … الخ‘‘ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (اگلی روایت میں) ابو الزناد نے اپنے اور خارجہ کے درمیان (انقطاع ختم کرنے کے لیے) مجالد بن عوف داخل کر دیا ہے۔ لگتا ہے اس میں انقطاع نہیں ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ابو الزناد نے مجاہد سے سنا ہو اور پھر خارجہ سے بھی سن لیا ہو۔ محدثین کے ہاں یہ عام ہوتا ہے، پھر طبرانی کی روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خارجہ نے اسے روایت بیان کی ہے۔ و اللہ اعلم۔ (ذخیرۃ العقبی شرح سنن النسائی: ۳۱/۲۷۹)