سنن النسائي - حدیث 3996

كِتَابُ المُحَارَبَة تَعْظِيمُ الدَّمِ صحيح أَخْبَرَنَا سَرِيعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ الْخَصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ، وَأَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ فِي الدِّمَاءِ»

ترجمہ سنن نسائی - حدیث 3996

کتاب: کافروں سے لڑائی اور جنگ کا بیان مومن کا خون انتہائی قابل تعظیم ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’آدمی سے سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا، وہ نماز ہے اور لوگوں کے درمیان سب سے پہلے فیصلہ قتل کے بارے میں ہو گا۔‘‘ (۱) بعض نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ قیامت کے دن فیصلے صرف لوگوں کے درمیان ہوں گے جبکہ درست یہ ہے کہ پہلے لوگوں کے درمیان فیصلے ہوں گے، پھر حیوانات کے درمیان بھی فیصلہ فرمایا جائے گا۔ (۲) یہ قیامت کے دن کی بات ہے۔ حقوق اللہ میں سب سے اہم نماز ہے، لہٰذا پہلے اسی کا حساب لیا جئاے گا۔ اگر اس میں کامیابی حاصل ہو گئی تو امید ہے باقی حقوق اللہ میں بھی رعایت حاصل ہو جائے گی اور اگر نماز ہی میں ناکام ہو گیا تو باقی حقوق اللہ کا حساب لینے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔ یا ان میں کامیابی نہ ہو گی۔ حقوق العباد میں سب سے اہم جان کی حرمت ہے۔ اگر کسی نے یہ حق ضائع کر دی، یعنی کسی کو ناحق قتل کر دیا تو باقی حقوق کی ادائیگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اور اگر کوئی شخص اس حق میں گزرفتار نہ ہوا تو باقی حقوق میں بھی نجات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ معلوم ہوا، ان دو چیزوں کے فیصلے پر ہی نجات کا دار و مدار ہے۔ یا ان دو چیزوں کی اہمیت مقصود ہے کہ حقوق اللہ میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا اور حقوق العباد میں سے پتل کا فصلہ سب سے پہلے ہو گا۔ باقی حساب کتاب اور فیصلے بعد میں ہوں گے۔ لیکن پہلے معنی زیادہ مؤثر ہیں۔ و اللہ اعلم۔